اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 28
اس پر سورۃ اخلاص نازل ہوئی جو توحید اسلامی کا مکمل چارٹر ہے۔چنانخواستہ حقانی نے فرمایا :- قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدُه حضرت اقدس اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔یعنی یہ تمہارا خدا وہ خُدا ہے جو اپنے ذات اور صفات میں واحد ہے۔نہ کوئی ذات اس کی ذات جیسی ازلی اور ابدی یعینی انادی اور اکال ہے۔نہ کسی چیز کے صفات اس کی صفات کے مانند ہیں۔انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محمد ہے مگر اس کا علم کسی علم کا محتاج نہیں۔اور بایں ہمہ غیر محدود ہے انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بنیائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ایسا ہی انسان کی پیدا کر نے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے ، نہ کسی وقت کی محتاج اور بغیر محدود ہے۔کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل دمانند : الدر المنثور للسيوطى ج - ص ۴۱۰ ::