القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 87

۸۷ فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَسَوْفَ يُرِيْهِمْ رَبُّنَا مَا كَذَّبُوا سوانہوں نے بچی کو جھٹلا دیا ہے جب وہ ان کے پاس آیا سوضرور انہیں دکھا دے گا ہمارا رب کہ انہوں نے کس چیز کو جھٹلایا ہے۔وَ قَدْ كُذِبَتْ قَبْلِى عِبَادٌ ذَرُوا التَّقَى فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِبُوا وَتَرَقَّبُوا مجھ سے پہلے کئی تقومی شعار بندے جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا تکذیب کیا جانے پر اور انجام کا انتظار کیا۔فَلَمَّا نَسُوا فَحُوَاءَ مَا ذُكَرُوا بِهِ أُسِفَ وُجُوهُ قُلُوبِهِم مَّا قَلَّبُوا جب وہ ( مخالف) اس بات کا مطلب، جس کے ذریعہ نصیحت کئے گئے تھے بھول گئے تو ان کے دلوں کی صورت جو انہوں نے بدل دی تھی متغیر کر دی گئی۔تَحَامَوْنِ بِالْحِقْدِ الْمُدَمِّرِ كُلُّهُمْ وَأَمَّهُمُ الشَّيْخُ السَّفِيهُ الْمُعْجَبُ انہوں نے مجھ سے اجتناب کیا ہلاک کرنے والے کینے کی وجہ سے سب کے سب نے۔اور ایک کم عقل مغرور شیخ ان کا پیشوا بنا ہے۔وَكَيْفَ أَخَافُ عِنَادَ قَوْمٍ مُّفْنِدٍ وَيَعْتَامُنِي رَبِّي عَلَيْهِمْ وَيَصْحَبُ اور میں جھوٹی قوم کے عناد سے کیسے ڈروں اس حال میں کہ میرا رب مجھ کو ان پر فضیلت دے رہا ہے اور میرا ساتھ دے رہا ہے۔فَأَبْغِي رِضَا رَبِّي وَمَا أَخْشَى الْعِدَا وَلِحَرْبِ أَعْدَاءِ الْهُدَى أَتَاهَبُ پس میں اپنے رب کی رضا چاہتا ہوں اور دشمنوں سے ڈرتا نہیں اور ہدایت کے دشمنوں سے جنگ کے لئے میں تیاری کر رہا ہوں۔وَلِكُلّ نَبَا مُسْتَقَرٌ مُعَيَّنْ وَمَا تُبْسَلُ نَفْسٌ قَبْلَ وَقْتِ يُكْتَبُ ااور ہر خبر کے لیے ایک وقت معین ہے اور کوئی نفس بھی مقدر وقت سے پہلے ہلاک نہیں کیا جاتا۔وَ إِنَّ هُدَى اللَّهِ الْعَلِيمِ هُوَ الْهُدَى وَيَعْلَمُ مَا نَدَعَنُ وَمَا نَحْنُ نَكْسِبُ اور اللہ علیم کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور وہ جانتا ہے جو بات ہم چھوڑ دیتے ہیں اور جو کرتے ہیں۔وَيَدْرِى أَنَاسًا كَفَّرُوْنَا وَكَذَّبُوا إِذَا ادَّارَكُوا لِنِضَالِهِمْ وَ تَحَرَّبُوا اور وہ ان لوگوں کو جانتا ہے جنہوں نے ہماری تکثیر اور تکذیب کی۔جب وہ اپنی لڑائی کے لیے جمع ہو گئے اور ٹولیاں بنالیں۔قَلَائِنِي الْوَرى حَتَّى الْأَقَارِبَ كُلُّهُمْ فَمِنْهُمْ كَشُعْبَانٍ وَّمِنْهُمْ عَقْرَبُ مخلوق نے مجھ سے دشمنی کی حتی کہ سب اقرباء نے بھی۔بعض تو ان میں سے اثر دھا کی طرح ہیں اور بعض ان میں سے بچھو ہیں۔