القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page ix of 390

القصائد الاحمدیہ — Page ix

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم قصيدة في مدح خاتم النبيين صلى الله عليه و سلم هذه القصيدة انيقة رشيقة مملوة من اللطائف الادبية و الفرائد العربية في یہ قصیدہ نہایت عمدہ اور لطیف ہے اور یا ادبی لطائف اور عربی زبان کے بے مثل قیمتی موتیوں سے بھر پور ہے۔یہ میرے پیارے آقا مدح سیدى و سيد الثقلين خاتم النبيين محمد لذى وصفه الله في الكتاب المبين دو جہاں کے بادشاہ خاتم النبین سیدناحضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تعریف فرمائی ہے اللهم صل وسلم عليه الى يوم الدين و ليست هذه من قريحتى الجامدة اے اللہ ! قیامت تک ان پر درود بھیج اور سلامتی نازل فرما اور یہ قصیدہ میری جامد طبیعت اور بجھی ہوئی ذہانت سے نہیں ہے اور وفطنتى الخامدة وماكانت رويتى الناضبة ضليع هذا المضمار ومنبع تلك الاسرار نہ ہی میرے خشک خیالات اس میدان کے شہسوار ہیں اور نہ ہی ان اسرار کا منبع ہیں 6 بل كلما قلت فهو من ربّى الذى هو قرینی و مؤیدی ، بلکہ وہ سب باتیں جو میں نے اس سلسلہ میں کی ہیں وہ میرے اس رب کی طرف سے ہیں جو میرا ساتھی اور میر امؤید ہے (وہ مجھے قوت بخشنے والا ہے) الذي هو معي في كل حيني الذي يطعمني و يسقيني ، و اذا ضللت فهو يهديني جو ہر وقت میرے ساتھ ہے۔وہی خدا ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے اور جب میں راستہ سے بھٹک جاتا ہوں تو میری رہنمائی فرما کر مجھے منزل مقصود تک پہنچاتا ہے