القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 75

۷۵ وَ فِي الدِّينِ أَسْرَارٌ وَّ سُبُلٌ خَفِيَّةٌ يُلَاحِظُهَا مَنْ زَادَهُ اللَّهُ فِي الْهُدَى اور دین میں کچھ اسرار او مخفی راہیں ہیں۔انہیں وہی دیکھتا ہے جسے اللہ نے ہدایت میں ترقی دی ہو۔وَهَذَا عَلَى الْإِسْلَامِ اَدُه مَصَائِبِ يُكَفَّرُ مَنْ جَاءَ الْآنَامَ مُجَدِّدَا اور یہ اسلام پر شدید ترین مصیبت ہے کہ اُس کی تکفیر کی جاتی ہے جو مخلوق کے لئے مجدد ہو کر آیا۔أَتُكْفِرُ رَجُلًا قَدْ اَنَارَ صَلَاحُهُ وَمِثْلُكَ جَهْلًا مَارَأَيْتُ ضَفَنَدَدَا کیا تو ایسے؟ آدمی کی تکفیر کرتا ہے جس کی نیکی روشن ہے؟ اور جہالت میں تیرے جیسا احمق میں نے کوئی نہیں دیکھا۔أَتُكْفِرُ رَجُلًا أَيَّدَ الدِّينَ حُجَّةٌ وَدَافَارُءُ وُسَ الصَّائِلِينَ وَ أَرْجَدَا کیا تو ایسے آدمی کی تکفیر کرتا ہے جس نے دلیل کے ساتھ دین کی تائید کی اور حملہ کرنے والوں کے سروں کوتوڑ دیا اور کچل ڈالا أَنَحْنُ نَفِرُّ مِنَ الرَّسُولِ وَدِينِهِ وَيَبْدُو لَكُمْ آيَاتُنَا الْيَوْمَ أَوْغَدَا کیا ہم رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اس کے دین سے دور بھاگ سکتے ہیں جب کہ تمہارے لئے آج یا کل ہمارے نشان ظاہر ہو جائیں گے۔وَ وَاللَّهِ لَوْلَا حُبُّ وَجُهِ مُحَمَّدٍ لَمَا كَانَ لِي حَوْلٌ لَامُدَحَ أَحْمَدَا اور خدا کی قسم ! اگر مجھے محمد کے چہرے کی محبت نہ ہوتی تو مجھے کوئی طاقت نہ ہوتی کہ احمد کی مدح کر سکوں۔فَفِي ذَاكَ آيَاتُ لِكُلِّ مُكَذِبِ حَرِيصٌ عَلَى سَبٍ وَ الْوَى كَالْعِدَا اس میں ہر اس تکذیب کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں جو گالیاں دینے پر حریص اور دشمنوں کی طرح پیچھے پڑنے والا جھگڑالو ہے۔وَكَمْ مِّنْ مَّصَائِبَ لِلرَّسُولِ اَذُوقُهَا وَكَمْ مِنْ تَكَالِيفٍ سَمْتُ تَوَدُّدَا اور بہت سی مصیبتیں ہیں کہ رسول اللہ کی خاطر میں انہیں چکھ رہا ہوں اور بہت سی تکلیفیں ہیں جو میں نے محبت کی وجہ سے برداشت کی ہیں۔وَغَمِّ يَفُوقَ ظَلَامَ لَيْلٍ مُّظْلِمٍ وَهَوْلٍ كَلَيْلِ السَّلْخِ يُبْدِى تَهَدُّدَا اور بہت سے غم ہیں جوتاریک رات کی ظلمت سے بھی زیادہ ہیں اور بہت کی دہشتیں ہیں وقمری مہینے کی آخری رات کی طرح ڈراؤنی ہیں۔وَضُرٍ كَضَرْبِ الْفَاسِ أَصْلَتَ سَيْفَهُ وَخَوْفٍ كَاصْوَاتِ الصَّرَاصِرِ قَدْ بَدَا اور بہت سے دکھ ہیں جو کلہاڑی کی ضرب کی طرح ہیں اور انہوں نے اپنی تلوار سونت رکھی ہے اور آندھیوں کی آوازوں کی طرح بہت سے ڈر ہیں جو ظا ہر ہوئے۔