القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 62

۶۲ حَلَفْتُ يَمِينًا مِّنْ لِعَان مُؤكَّدٍ فَإِنِّي بِمَيْدَانِ اللَّعَانِ سَأَحْضُرُ میں نے مؤکد لعنت کے ساتھ حلف اٹھایا کہ میں مباہلہ کے میدان میں ضرور حاضر ہو جاؤں گا۔فَإِذَا أَتَى بَعْدَ التَّرَصُّدِيَوْمُنَا فَقُمْتُ وَلَمْ اَكْسَلُ وَمَا كُنْتُ أَقْصُرُ پھر جب انتظار کے بعد ہمارا وہ دن آ گیا تو میں اٹھ کھڑا ہوا اور نہ میں نے ستی کی اور نہ میں کوتاہی کرنے والا تھا۔خَرَجْنَا وَخَلْقٌ كَانَ يَسْعَى وَرَاءَ نَا لِيَنْظُرَ كَيْفَ يُبَاهِلَنُ وَيُكَفِّرُ ہم نکل کھڑے ہوئے اور لوگ ہمارے پیچھے تیزی سے آرہے تھے تا کہ وہ دیکھیں کہ وہ شیخ کس طرح مباہلہ کرتا ہے اور تغیر کرتا ہے۔فَجَاءَ وَلكِنْ لَمْ يُبَاهِلُ مَخَافَةً وَأَعْرَضَ حَتَّى لَامَ مَنْ هُوَ يُبْصِرُ سو وہ آتو گیا لیکن ڈر کے مارے اس نے مباہلہ نہ کیا اور مباہلہ سے اعراض کیا یہاں تک کہ دیکھنے والے اسے ملامت کرنے لگے۔وَ لَمْ يَتَمَالَكُ أَنْ تُبَاهِلَ كَالْفَتَى وَظَلَّ يُرِيْنَا ظَهَرَ جُبْنِ وَ يُدْبِرُ اور اسے قدرت نہ ہوئی کہ ایک جوان مرد کی طرح مباہلہ کرے اور وہ ہمیں بزدلی کی پیٹھ دکھا تا رہا اور پیٹھ پھیر گیا۔وَ جَاشَتُ إِلَيْهِ النَّفْسُ خَوْفًا وَخَشْيَةٌ وَقَدْ خِفْتُ أَنْ يُغْشَى عَلَيْهِ وَ يُخْطَرُ اور وہ خوف اور ڈر کے مارے ہانپنے لگا اور میں ڈرا کہ اس پر غشی طاری ہو جائے گی اور وہ خطرے میں پڑ جائے گا۔وَوَجَدْتُهُ بَحَرًا وَمُوْعِسَ خِيفَةٍ كَانَ حُسَامِي يَهْجَمَنُ وَ يُبَتِرُ اور میں نے اسے سخت مبہوت اور خوف کا احساس رکھنے والا پایا۔گویا کہ میری تلوار ضر ور حملہ کر دے گی اور (اسے) کاٹ ڈالے گی۔فَقُلْتُ لَهُ لَمَّا أَبَى إِنَّ حُجَّتِي لَقَدْ تَمَّ وَاللَّهُ الْعَلِيْمُ سَيَأْمُرُ جب اس نے انکار کیا تو میں نے اسے کہ دیا کہ میری محبت بے شک تمام ہو چکی ہے اور اب خدائے علیم ضرور کوئی حکم دے گا۔وَإِنْ شِئْتَ سَلْ مَنْ كَانَ فِيْنَا حَاضِرًا وَمَا قُلْتُ إِلَّا مَا هُوَ الْمُتَقَرِّرُ اگر تو چاہے تو پوچھ لے اس شخص سے جو ہم میں موجود تھا اور میں نے وہی بات کہی ہے جو ثابت شدہ ہے۔وَبَاهَلَنِي مِنْ غَزَنَوِتِيْنَ مُكْفِرٌ وَقُوْفًا لَّدَى شَجَرَاتِ أَرْضِ يَشْجَرُ اور غزنویوں میں سے ایک کا فرٹھہرانے والے نے مجھ سے مباہلہ کیا جب کہ وہ درختوں والی زمین کے پاس کھڑا ہو کر جھگڑا کر رہا تھا۔