القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 59

۵۹ وَمَا يَصْطَفِى اللَّهُ الْعَلِيمُ مُزَوّرًا وَمَا يَجْتَبِي الْفُسَّاقَ رَبِّ أَطْهَرُ اور خدائے علیم مکار کو فضیلت نہیں دیا کرتا اور پاک رب فاسقوں کو برگزیدہ نہیں کیا کرتا۔فَذَرْنِي وَخَلَّاقِي وَ لَسْتَ مُصَيْطِرًا عَلَيَّ وَ لَا حَكَمْ وَقَاضٍ فَتَأْمُرُ تو مجھے اور میرے پیدا کرنے والے کو چھوڑ دے۔مجھ پر تو کوئی داروغہ نہیں ہے اور نہ حکم اور قاضی ہے کہ تو حکم چلائے۔وَ اثْرَنِي رَبِّي وَأَخْزَاكَ خَالِقِي فَقَدْ ضَاعَ يَا مِسْكِينُ مَا كُنْتَ تَبْذُرُ میرے رب نے مجھے پسند کیا ہے اور میرے خالق نے تجھے رسوا کیا ہے اور بے شک اے مسکین ! ضائع ہو چکا ہے جو تو ہوتارہاتھا۔اَ لَيْسَتْ تُقَاةَ اللَّهِ شَرُطًا لِمُؤْمِنٍ فَمَا لَكَ يَوْمَ الْأَخْذِ لَا تَتَذَكَّرُ کیا خدا کا تقویٰ مومن کے لئے شرط نہیں؟ تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو گرفت کے دن کو یاد نہیں کرتا۔وَعَدَوْتَ حَتَّى قُلْتَ لَسْتُ بِائِبٍ وَإِنَّ الْهُدَى بَعْدَ الْـقِـلَى مُتَوَعِرُ اور تُو نے حد سے اتنا تجاوز کیا کہ کہ دیا کہ میں تو (اب) واپس آنے والا نہیں ہوں اور یقیناً دشمنی کے بعد ہدایت پانا مشکل ہے۔اَ تُفْتِى بِمَا لَمْ يُنْزِلِ اللَّهُ مِنْ هُدًى وَتُكْفِرُ مَنْ الْقَى السَّلَامَ وَ تَجْسُرُ کیا تو ایسی بات کا فتویٰ دیتا ہے جس کے لئے اللہ نے کوئی ہدایت نازل نہیں کی اور جو سلام لے اسے کا فرقراردیتا ہے اور دلیری کرتا ہے۔وَ وَاللهِ بَلْ تَاللهِ لَوْ كُنتَ مُخْلِصًا اَرَيْتُكَ آيَاتٍ وَّ لَكِن تُزَوِّرُ بخدا! اللہ کی قسم! اگر تو مخلص ہوتا تو میں تجھے نشانات دکھا تا لیکن تو تو فریب کر رہا ہے۔وَلَوْ قَبْلَ اكْفَارِي سَأَلْتَ اَمَانَةً لَعَمُرِى هُدِيْتَ وَ صِرْتَ شَيْخًا يُبْصِرُ اور اگر تو از راو دیانت مجھے کافر ٹھہرانے سے پہلے (مجھ سے پوچھ لیا تو مجھے قسم ہےکہ تو ہدایت پاتا اور ایک صاحب بصیرت شیخ بن جاتا۔وَلَكِن ظَنَنْتَ ظُنُونَ سَوْءٍ بِعُجُلَةٍ كَغُولِ هَوًى وَالْغُولُ لَا يَتَطَهَّرُ لیکن تو جلد بازی سے اور ہوائے نفس سے بدگمانی کرنے لگ گیا ایک بھوت کی طرح۔اور بھوت تو پاک نہیں ہوتا۔هَلِ الْعِلْمُ شَيْءٌ غَيْرُ تَعْلِيمِ رَبَّنَا وَ أَيَّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ نَتَخَيَّرُ کیا وہ علم کوئی چیز ہے جسے ہمارے رب نے نہ سکھایا ہو اور کونسی بات ہم اس کے بعد اختیار کر سکتے ہیں؟