القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 49

۴۹ وَفِيْكَ فَسَادٌ لَوْ عَلِمْتَ اجْتَنَبَتَهُ وَذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُغْوِى وَيَحْصُرُ اور تجھ میں ایک خرابی ہے اگر تجھے اسکا علم ہوتا تو تو اس سے پر ہیز کرتا اور یہ شیطان ہی ہے جو تمہیں گمراہ کر رہا ہے اور روک رہا ہے۔ذَبَبْتُ عَنِ الدِّينِ الْحَنِيْفِى شُكُوكَكُمْ وَاَزْعَجُتُ أَصْلَ أُصُولِكُمْ ثُمَّ تُنْكِرُ میں نے دین حنیفی کے متعلق تمہارے شکوک دُور کر دیئے ہیں اور تمہارے اصول کی جڑ کو کھاڑ دیا ہے۔پھر بھی تو انکار کر رہا ہے۔وَ قُلْتُمْ لَنَا دِينْ بَعِيدٌ مِنَ النُّهَى وَهَذَا فَسَادٌ ظَاهِرٌ لَيْسَ يُسْتَرُ اور تم نے کہہ دیا ہمارا دین تو عقل میں نہیں آسکتا اور یہ تو ایک واضح خلل ہے جو چھپ نہیں سکتا۔وَكُلُّ امْرِءٍ بِالْعَقْلِ يَفْهَمُ أَمْرَهُ كَمَا بِالْعُيُونِ يُشَاهِدَنَّ وَيُبْصِرُ اور ہر آدمی تو عقل سے ہی اپنا معاملہ سمجھا کرتا ہے جیسا کہ وہ آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہے اور دیکھتا ہے۔وَعَقْلُ الْفَتَى نِصْفٌ وَّ نِصْفٌ حَوَاسُهُ وَ كَصَفْقِ أَيْدٍ مِنْهُمَا الْعِلْمُ يَظْهَرُ اور آدھی تو انسان کی عقل ہے اور آدھے اسکے حواس ہیں اور (بیع کے وجوب کیلئے ہاتھ پر ہاتھ مارنے کیطرح ان دونوں سے علم الیقین صادر ہوتا ہے۔تَصَدَّيْتَ فِي نَصْرِ الضَّلَالِ تَعَمُّدًا فَبَارِزُ لِحَرْبِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ تَقْدِرُ تو عمداً گمراہی کی مدد کے درپے ہوا۔سو اللہ سے جنگ کے لئے میدان میں آجا اگر تجھے قدرت ہے۔وَمَا أَنْتَ إِلَّا عَابِدَ الْحِرْصِ وَ الْهَوَى تُشَمِّرُ ذَيْلَكَ لِلْحُطَامِ وَ تَهْجُرُ اور تُو تو صرف حرص و ہوا کا پجاری ہے تو سامانِ دنیا کے لئے کمر بستہ ہے اور بکواس کر رہا ہے۔رَأَيْتُ لَكَ الرُّؤْيَا وَإِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّ كَلَامَ الــــــــهِ لَا تَتَغَيَّرُ میں نے تیرے متعلق ایک خواب دیکھی ہے اور یقینا تو مرنے والا ہے اور بے شک خدا کی با تیں بدلا نہیں کرتیں۔وَ عِدَّةُ وَعْدِ اللَّهِ عَشْرٌ وَخَمْسَةٌ إِذَا مَا انْقَضَتْ فَاعْلَمُ بِأَنَّكَ مُحْضَرُ اور خدا کے وعدے کی مدت پندرہ (مہینے) ہے جب یہ مدت گزر جائے گی تو جان لینا کہ تو پیش کیا جانے والا ہے۔وَتَعْمَى وَ تُحْضَرُ عِنْدَ ذِى الْعَرْشِ مُجْرِمًا وَتُسْأَلُ عَمَّا كُنتَ تَهْذِى وَ تَكْفُرُ اور تو اندھا ہوگا ور مجرم کی صورت میں عرش والے کے سامنے حاضر کیا جائیگا اور تجھ سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جائیگا جوتو بکتا رہاہے اورجو تو انکارکرتارہا ہے۔