القصائد الاحمدیہ — Page 325
۳۲۵ فَلَمَّا طَغَى الْفِسْقُ الْمُيْدُ بِسَيْلِهِ تَمَنَّيْتُ لَوْ كَانَ الْوَبَاءُ الْمُتَبِّرُ پس جبکہ فسق ہلاک کنندہ ایک طوفان کی حد تک پہنچ گیا۔تو میں نے آرزو کی کہ ملک میں طاعون پھیلے اور ہلاک کرے۔فَإِنَّ هَلَاكَ النَّاسِ عِنْدَ أُولِى النُّهَى اَحَبُّ وَأَوْلَى مِنْ ضَلَالٍ يُدَمِّرُ کیونکہ لوگوں کا مر جانا عقلمندوں کے نزدیک۔اس سے بہتر ہے کہ گمراہی کی موت اُن پر آوے۔وَمَنْ ذَا الَّذِى مِنْهُمْ يَخَافُ حَسِيْبَهُ وَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْغِي السَّدَادَ وَيُؤْثِرُ اور ان میں سے کون ہے جو اپنے خدا سے ڈرتا ہے؟ اور ان میں سے کون ہے جو نیکی کی راہ اختیار کر رہا ہے؟ وَمَنْ ذَا الَّذِي لَا يَفْجُرُ اللهَ عَامِدًا وَمَنْ ذَا الَّذِي بَرٌّ عَفِيفٌ مُطَهَّرُ اور کون ان میں ہے جو عمد ا خدا کا گناہ نہیں کرتا۔اور کون ان میں نیک پر ہیز گار پاک دل ہے؟ وَمَنْ ذَا الَّذِي مَا سَبَّنِي لِتُقَاتِهِ وَقَالَ ذَرُونِي كَيْفَ أُوْذِي وَا كُفِرُ اور کون ان میں ہے جس نے بوجہ پر ہیز گاری مجھ کو گالیاں نہ دیں؟اور کہا مجھ کو چھوڑ دو میں کیونکر دُ کھ دوں اور کا فرٹھہراؤں۔وَكَيْفَ وَإِنَّ أَكَابِرَ الْقَوْمِ كُلَّهُمْ عَلَى حِرَاصٌ وَالْحُسَامُ مُشَهَّرُ اور بدزبانی سے بچنا کیونکر ہو سکے۔وہ تو میری جان لینے کے حریص ہیں اور تلوار کھینچی گئی ہے۔وَ لكِنْ عَلَيْهِمْ رُعْبُ صِدْقِى مُعَظَّمٌ فَكَيْفَ يُبَارِي اللَّيْتَ مَنْ هُوَ جَوْذَرُ لیکن میری شان کا رعب اُن پر عظیم ہے۔پس کیونکر شیر کا مقابلہ کر سکتا ہے وہ جو گوسالہ ہے۔فَلَيْسَ بِايْدِى الْقَوْمِ اِلا لِسَانُهُمْ مُنَجَّسَةٌ بِالسَّبِ وَاللَّهُ يَنْظُرُ پس قوم کے ہاتھ میں بجز زبان کے کچھ نہیں، وہ زبان۔جو دشنام دہی کی نجاست سے آلودہ ہے اور خدا دیکھ رہا ہے۔قَضَى الله اَنَّ الطَّعْنَ بِالطَّعُنِ بَيْنَنَا فَذَالِكَ طَاعُونَ آتَاهُمْ لِيُبْصِرُوا خدا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ طعن کی سزا طعن ہے۔پس وہ یہی طاعون ہے کہ ان کے ملک میں پہنچ گئی ہے تا ان کی آنکھیں کھلیں۔وَلَيْسَ عِلَاجُ الْوَقْتِ إِلَّا إِطَاعَتِى أَطِيعُونِ فَالطَّاعُونُ يُفْنَى وَيُدْحَرُ علاج وقت (صرف) میری اطاعت ہے۔پس میری اطاعت کرو طاعون دور ہو جائے گی۔