القصائد الاحمدیہ — Page 19
۱۹ وَآثَرْنَا الْحَبِيبَ عَلَى حَيَاةٍ وَقُمْنَا لِلشَّهَادَةِ بِالْعَتَادِ اور ہم نے اپنے محبوب کو اپنی زندگی پر ترجیح دی ہے اور ہم پوری تیاری سے شہادت ( حاصل کرنے ) کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔وَمَا الْخُسْرَانُ فِي مَوْتٍ بِتَقْوَى وَحُسْرُ الْمَرْءِ فِي سُبُلِ الْفَسَادِ اور تقویٰ کے ساتھ مرنے میں کوئی خسارہ نہیں انسان کا خسارہ تو فساد کی راہوں میں ہوتا ہے۔وَإِنِّي قَدْ خَرَجْتُ إِلَى ذُكَاءٍ فَفَارَتْ عَيْنُ نُورٍ مِّنْ فُؤَادِى اور بے شک میں ایک سورج کی طرف نکل کھڑا ہوا تو میرے دل سے ایک نور کا چشمہ پھوٹ پڑا۔بِحَمْدِ اللَّهِ إِنَّ الْحِبَّ مَعَنَا وَمَا يَرُمِي مَتَاعِى بِالْكَسَادِ الحمد للہ کہ ہمارا محبوب (خدا) ہمارے ساتھ ہے اور وہ میرے سامان کو کساد بازاری کا شکار نہیں ہونے دے گا۔وَيُدْنِينِي بِحَضْرَتِهِ بِلُطْفٍ وَيَسْقِينِي مُدَامَ الْإِتِحَادِ اور وہ اپنی جناب میں مہربانی سے قریب کرتا ہے اور مجھے وصل کی شراب پلاتا ہے۔وَإِنَّ هِدَايَةَ الْفُرْقَانِ دِينِي وَأَدْعُوكُمْ إِلَى نَهْجِ السّدَادِ اور بے شک قرآن کی ہدایت ہی میرا دین ہے اور میں تمہیں بھی درست راستے کی طرف بلاتا ہوں۔فَقُمْ إِنْ شِئْتَ كَالًا حَبَابِ طَوْعًا وَإِمَّا شِئْتَ فَاجْلِسُ فِي الْأَعَادِي اگر تو چاہے تو دوستوں کی طرح (اپنی) خوشی سے اٹھ اور اگر چاہے تو تو دشمنوں میں بیٹھارہ۔وَقَدْ بَارَى الْعَدُوُّ بِعَزْمِ حَرْبِ وَبَارَزْنَا فَيَا قَوْمِي بَدَادِ اور بے شک دشمن لڑائی کے ارادے سے سامنے آ گیا اور ہم بھی مقابلے میں نکل کھڑے ہیں۔پس اے میری قوم ! میرے مد مقابل کو سامنے لا۔وَكَانَ نَصِيْحَةٌ لِلَّهِ فَرْضِى فَقَدْ بَلَّغْتُ فَرْضِي بِالْوَدَادِ اور خدا کے لئے نصیحت کرنا میرا فرض تھا اور میں نے اپنا فرض دوستانہ جذبات کے ساتھ پورا کر دیا ہے۔(تحفة بغداد - روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۳ - ۱۴)