القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 198

۱۹۸ تَحْتَ السُّيُوفِ تَشَهَّدُوا لِخُلُوْصِهِمْ شَهِدُوا بِصِدْقِ الْقَلْبِ فِي الْأَمْلَاءِ اپنے خلوص کی وجہ سے وہ تلواروں کے نیچے شہید ہو گئے اور مجالس میں انہوں نے صدق قلب سے گواہی دی حَضَرُوا الْمَوَاطِنَ كُلَّهَا مِنْ صِدْقِهِمْ حَفَدُوا لَهَا فِي حَرَّةٍ رَجُلَاءِ اپنے صدق کی وجہ سے وہ تمام میدانوں میں حاضر ہو گئے۔وہ ان میدانوں کی سنگلاخ سخت زمین میں جمع ہو گئے الصَّالِحُونَ الْخَاشِعُونَ لِرَبِّهِمُ الْبَائِتُونَ بِذِكْرِهِ وَبُكَاءِ وہ صالح تھے اپنے رب کے حضور عاجزی کرنے والے تھے وہ اس کے ذکر میں رور وکر راتیں گزارنے والے تھے قَوْمٌ كِرَام لَا نُفَرِّقُ بَيْنَهُمْ كَانُوا لِخَيْرِ الرُّسُلِ كَالْأَعْضَاءِ وہ بزرگ لوگ ہیں۔ہم ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔وہ خیر الرسل کے لئے بمنزلہ اعضاء کے تھے مَا كَانَ طَعْنُ النَّاسِ فِيْهِمْ صَادِقًا بَلْ حِشْنَةٌ نَشَأْتُ مِنَ الْأَهْوَاءِ لوگوں کے طعن ان کے بارے میں بچے نہ تھے بلکہ وہ ایک کینہ ہے جو ہوا و ہوس سے پیدا ہوا ہے اِنّى اَرَى صَحْبَ الرَّسُول جَمِيعَهُمْ عِنْدَ الْمَلِيْكِ بِعِدَّةٍ فَعَسَاءِ میں رسول ﷺ کے تمام کے تمام صحابہ کو خدا کے حضور میں دائمی عزت کے مقام پر پاتا ہوں۔۔تَبِعُوا الرَّسُوْلَ بِرَحْلِهِ وَثَوَاءِ صَارُوا بِسُبُلِ حَبِيْبِهِمْ كَعَفَاءِ انہوں نے رسول ﷺ کی پیروی کی سفر اور حضر میں اور وہ اپنے حبیب کی راہوں میں خاک راہ ہو گئے۔نَهَضُوا لِنَصْرِ نَبِيِّنَا بِوَفَاءٍ عِندَ الصَّلَالِ وَفِتْنَةٍ صَمَّاءِ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لئے وفاداری کے ساتھ اٹھ کھڑ ہوئے گمراہی اور سخت فتنہ کے وقت میں وَتَخَيَّرُوا لِلَّهِ كُلَّ مُصِيبَةٍ وَتَهَلَّلُوا بِالْقَتْلِ وَالْإِجْلَاءِ اور انہوں نے اللہ کی خاطر ہر مصیبت کو اختیار کر لیا او قتل اور جلا وطنی کو بھی بخوشی قبول کر لیا أَنْوَارُهُمْ فَاقَتْ بَيَانَ مُبَيِّنٍ يَسْوَدُّ مِنْهَا وَجُهُ ذِي الشَّحْنَاءِ ان کے انوار بیان کرنے والے کے بیان سے بھی بالا ہو گئے۔کینہ ور کا چہرہ ان انوار کے مقابلہ میں سیاہ ہو رہا ہے