اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 87
الهدى و التبصرة لمن يرى ۸۷ اردو ترجمہ من ولى۔وما صافاهم الا القلب رکھتا ہے جو ( حق کی راہ سے ) پھر چکا ہو۔اور ان الذي صار كالكلب ومن النور سے وہی دل محبت کا تعلق رکھتا ہے جو سگ صفت تخلّى و نشأ في الجهل وبالعلم اور نور سے خالی ہو اور جہالت میں پروان چڑھا ہو ماتحلّى۔فسيعلم إذا الله اور زیور علم سے آراستہ نہ ہو۔جب اللہ تجلی فرمائے تجلّى۔ألا يرون الطاعون؟ ألا گا تو اسے معلوم ہو جائے گا۔کیا وہ طاعون کو نہیں يرون سهام أشرار۔كأنها شواظ دیکھتے۔کیا اُن کی شریر لوگوں کے تیروں پر نگاہ نہیں من نار؟ وقد نزل العدا بساحتهم جو آگ کے لپکتے ہوئے شعلوں کی طرح ہیں دشمن وتشمّروا لإجاحتهم فما بارزوا اُن کے صحن میں اتر آئے ہیں۔اور انہوں نے اُن الأعداء وما أعدوا وما فكروا کی بیخ کنی کے لئے اپنی آستینیں چڑھا لی ہیں۔مگر في حيــل أجـاحـوا الدين بها و پھر بھی یہ ان دشمنوں کے مقابلہ پر نہ نکلے اور نہ ردوا۔انظروا إلى هذه العلماء تیاری کی اور نہ انہوں نے ان کی اسلام کی بیخ کنی إنهم ما دخلوا الدار من بابها کرنے والی سازشوں پر کبھی غور کیا اور نہ ہی جواب البيضاء، بل تسوّروا جدران دیا۔ان علماء کی حالت پر نگاہ ڈالو۔وہ گھر میں اس الحق من الاجتراء۔وإن کے سفید دروزاے سے داخل نہیں ہوئے بلکہ بڑی ۷۵ المسيح قد وافاهم مع العلوم دیدہ دلیری سے انہوں نے حق کی دیواروں کو پھاندا النخب رُحما من الله ذی ہے۔خدائے ذوالعجائب کی رحمت سے وہ مسیح ان العجب۔وما أنضوا إليه ركاب كے پاس اعلیٰ علوم لے کر آیا پر انہوں نے طلب و الطلب۔بل اضطرمت نار الفتن جستجو کی سواریوں کو اس کی طرف نہ دوڑ ایا بلکہ فاقتضت ماء السماء فنزل فتنوں کی آگ بھڑک اٹھی۔اور اُس نے آسمانی مسیح الله بعد ما نزلت علی پانی کا تقاضا کیا۔پھر لوگوں پر طرح طرح کی الناس أنواع البلاء۔وترون بلاؤں کے نازل ہونے کے بعد اللہ کا مسیح نازل كيف صالت القسوس وشاعت ہوا۔تم دیکھتے ہو کہ پادریوں نے کس طرح حملے