اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 68
الهدى و التبصرة لمن يرى ۶۸ اردو ترجمہ (۲۸) ☆ والعرفان۔والله المستعان ولا اب اس سے آگے ترجمہ کی کوئی ضرورت نہیں۔حاجة إلى الترجمة والترجمان۔اس لئے کہ وہ خود زبان دانی کے مدعی ہیں۔فإنّهم يدعون علم اللسان۔اگلے حصہ کا عربی ترجمہ بورڈ نے کیا ہے) ذكر عُلماء هذا الزمان اس زمانہ کے علماء کے بیان میں لما ثبت مما سبق من البيان أن جب گزشتہ بیان سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس ملوك الإسلام في هذا الزمان زمانے کے مسلمان بادشاہ ان خرابیوں کی اصلاح لا يطيقون أن يُصلحوا المفاسد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے جو آگ کی طرح التي تـضـرمـت كالنيران۔بقی بھڑکی ہوئی ہیں۔آپ کا یہ حق بنتا ہے کہ آپ کہیں لك حق أن تقول ان هذه الفتن کہ یہ تمام فتنے اور فساد جاہلوں کی جہالت کے قد تولّدت من جهل الجهلاء۔سبب پیدا ہوئے۔اور علماء کی تعلیم کے ذریعہ نا پید وستنعدم من تعليم العلماء ہو جائیں گے کیونکہ وہ نبی کریم (ع) کے فإنهم ورثاء النبى و كماة هذا وارث اور اس میدان کے پہلوان ہیں اور وہ علم الميدان۔و انهم منورون بنور کے نور سے منور کئے گئے۔اس لئے ان سے یہ العلم فيُرجى منهم ان يصلحوا ما امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان خرابیوں کی اصلاح کر لم يصلحه سلاطین البلدان سکیں گے جن کی اصلاح سلاطین مملکت نہ کر سکے۔بقية الحاشية - سلطان الروم و نثنى عليه لبعض خليقة المعلوم۔بيد ان ترجمہ۔سلطان روم جس کے بعض معلوم اوصاف کی بناء پر ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔البتہ امر الخلافة امر عسير ولا يعطى الالبصير لالــضـــريــر ومــا اعـطـى امر خلافت ایک مشکل معاملہ ہے جو صرف صاحب بصیرت کو ہی دیا جاتا ہے اندھے کو نہیں هذا السهم لكل كنانة۔وان كانوا ذا مرتبة ومكانة منه اور ہر ترکش کے نصیب میں ایسا تیر کہاں چاہے وہ کتنا ہی صاحب مقام ومرتبہ ہو۔نوٹ۔اس عنوان سے آخر تک عریبک بورڈ کا نظر ثانی شدہ ترجمہ مندرج ہے۔( ناشر )