اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 19

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۹ اردو ترجمہ بكيله۔وها أنا أقسم برب البرية لوں گا اور اس کے دامن سے لٹک جاؤں گا اور أؤكد العهد لهذه الألية۔وإن پھر لوگوں کو اس کے پیمانہ سے ناپوں گا۔اور لو كلم الأحرار بكلام أشد جرحًا میں پروردگار جہان کی قسم کھاتا ہوں اور اس قسم من جرح سهام بل هو أشق سے عہد کو پختہ کرتا ہوں۔اور شریفوں کا زخمی عليهم من قتلهم بلهذم وحسام کرنا کلام سے زخم میں سخت تر ہوتا ہے تیروں وإن جراحات السنان لها التیام کے زخم سے۔بلکہ نیزہ اور تلوار کے ساتھ قتل ولا يلتام ما جرح كلام۔وأما ما کرنے سے بڑھ کر ان پر گراں ہوتا ہے۔اور ادعى من المعارف والفصاحة۔يه پختہ بات ہے کہ نیزوں کے زخم تو مل جاتے كما يُفهم من قوله بالبداهة۔فهى ہیں پر کلام کے زخم نہیں ملتے۔لیکن جو اس نے مقالة هو قائلها ولا نقبله إلا بعد معارف اور فصاحت کا دعویٰ کیا ہے جیسا کہ ثبوت النباهة۔وما اتظنّى أن ظاہراً اس کے کلام سے سمجھا جاتا ہے۔یہ اس کا يكتـب الـمـنـار مـن مـعارف نرا دعوی ہی دعوئی ہے اور ہم اسے مان نہیں سکتے كمعارف کتابی۔ویری بریقا جب تک وہ اپنی بزرگی کا ثبوت نہ دے اور (۲) کبریق ما في قرابي۔ثم مع میرے تو خیال میں بھی نہیں آ سکتا کہ منار میری ذالك تُناجينی نفسی فی بعض کتاب جیسے معارف لکھ سکے۔اور میری تلوار الأوقات ان من الممكن أن جیسی چمک اور آب دکھا سکے۔اور اس پر بھی يكون مدير المنار بريئا من هذه ميرے دل میں کبھی کبھی آتا ہے کہ ممکن ہے کہ الإلزامات۔ويمكن أنه ما عمد منار کا ایڈیٹر ان الزاموں سے بری ہو اور ممکن إلى الاحتقار والنطح ہے کہ اس نے حقارت کا اور چار پایوں کی طرح كالعجماوات۔بل أراد أن يعصم سینگ سے مارنے کا ارادہ نہ کیا ہو بلکہ یہ چاہا كلام الله من صغار ہو کہ خدا کی کلام کو مشابہت اور مماثلت کی