الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 201
کہ میں نے اپنے رسول دختدار سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعیت کے اس طور کا نبی کہا ہے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔بلکہ اپنی معنوں سے خدا نے مجھے بنی اور رسول کر کے پکارا ہے۔سو اب بھی میں ان معنوں سے بنی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔راشتہار ایک غلطی کا ازالہ مفتی محمد شفیع صاحب نے خود یہ عبارت اپنی کتاب ختم نبوت کامل کے مال پر درج کی ہے اس سے ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ آپ مستقل شریعیت لانے والے یا ستنقل نبی ہیں۔آپ کا دعوی ہمشیران معنوں میں نبی اور رسول ہونے کا رہا ہے۔آپ نے اپنے رسول مقتدا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے علم غیب پایا ہے۔آپ کے بنی اور رسول ہونے کی یہ کیفیت اور حقیقت ایک ایسا امر ہے جس میں شروع دعوئی سے لے کر آخر زندگی تک کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔العینہ جو تبدیلی واقع ہوتی وہ صرف اس تاویل میں ہے کہ پہلے آپ نے اپنی نبوت کو مامور محدث کے مقابک محد دو جاتا اور بعد میں الہامات کے رو سے جب آپ پر اپنی نبوت کے متعلق تصریح ہو گئی کہ آپ کی نبوت کا مقام محدث کی نبوت کے مقام سے بالا ہے تو آپ نے اپنی نبوت کی تاویل محد ثیت ترک فرما دی۔اگر اس امر کا نام دعوئی میں تدریجی کا پایا ندیمی الختان قابل اعتراض نہیں جانا کہا جائے تویہ امر ہرگز قابل احترام