الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 169
لوگ بھی اس وجہ سے کہ کتاب اللہ کی حفاظت کا کام ان کے سپرد کیا گیا تھا اور وہ اس کے نگران تھے یسی عمدہ اور منصب سیج موجود کا ہے۔آپ شریعت محمدیہ کی تجدید اور اشاعت کے لئے مامور ہیں اور احادیث نبویہ میں آپ کو نبی اللہ اور محکم عدل بنا کہ امت کا امام مقرر کیا گیا ہے جیسے کہ انبیاء بنی اسرائیل اقمت موسوی کے مجدد اور امام اور تحکم تھے۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب مجددصدی دوازدہم نے حضرت مولے علیہ السلام کی شریعت کی حفاظت کے لئے آنے والے انبیاء کو محمد دین موسوی ہی قرار دیا ہے۔چنانچہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کتاب شریعیت لانے کے ذکر کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے انبیاء کا ذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں :۔اوْ يَكُونُ نَظمَ مَا تَعَى لِقَوْمٍ مِنْ إستمرار دولة الدين يَقْتَضِى بَعْتَ مُحبَةٍ كَدَاود وَسُلَيْمَانَ وَجَمْع مِنْ أَشْيَا وَ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ قَدْ قَضَى اللَّهُ لِنَصْرِهِمْ عَلَى اعد ابو هیتر را حجۃ اللہ البالغہ جواد اولی عملا مطبوعہ مصر) ترجمہ۔یا بنی اس نظام کے قیام کی خاطر یہ جا جاتا ہے جو خدا نے کسی قوم کی نسلت یا دین کو جاری رکھنے کے لئے مقرر کیا ہو یہ نظام ایک مجدد کی بہشت کو چاہتا ہے جیسے عورت دارد د اور سلمان اور بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام کی ایک