احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 62
تعلیمی پاکٹ بک 62 حصہ اول بخاری میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمرؓ اور صحابہ نے سنی تو انہیں یوں محسوس ہوا کہ یہ آج نازل ہوئی ہے اور انہیں یقین ہو گیا کہ واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بشر تھے ایک رسول تھے اور بشری تقاضے کے ماتحت آج تک جتنے رسول آئے وہ جب وفات پاگئے تو آنحضرت کیوں فوت نہیں ہو سکتے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس آیت سے استدلال کرنا صاف دلالت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک تمام انبیاء گزشتہ بشمول حضرت عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اگر واقعہ یہ ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام با وجود محض رسول ہونے کے اس وقت تک زندہ ہوتے یا صحابہ کرام انہیں زندہ سمجھتے تو ان کے سامنے یہ آیت قابل استدلال ہی نہ ہوتی اور وہ صحابہ جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے صدمہ سے زخمی تھے وہ ضرور بول اٹھتے کہ جب عیسی علیہ السلام رسول ہو کر اب تک زندہ ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وفات پا نا کیونکر ضروری ٹھہرا۔مگر کسی صحابی کا اعتراض مروی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔یہ دلیل جو حضرت ابو بکر نے تمام گزشتہ نبیوں کی وفات پر پیش کی کسی صحابی سے اس کا انکار مروی نہیں۔حالانکہ اس وقت سب صحابی موجود تھے اور سب سُن کر خاموش ہو گئے۔اس سے ثابت ہے کہ اس پر تمام صحابہ کا اجماع ہو گیا تھا اور صحابہ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 461 حاشیہ) صحابہ کرام کا پہلا اجماع ہے جو اس بات پر ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء وفات پاگئے ہیں۔سو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پاچکے ہیں۔نہ کہ ان پر کوئی خاص حالت زندگی میں طاری ہے جس سے ان کی وفات پانے کا شبہ ہوسکتا ہے۔