احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 535
535 حصہ دوم _5 لا ہوری فریق یہ کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہیں نہ کہ صرف نبی ہم اس بارہ میں بھی لا ہوری فریق سے پورا اتفاق رکھتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت ورسالت اور اس کے معنی اور کیفیت کے متعلق دونوں فریق ایک ہی عقیدہ رکھتے ہیں۔جزوی اختلاف ہم دونوں فریق میں صرف ایک جزوی اختلاف پایا جاتا ہے۔جو یہ ہے کہ:۔لا ہوری فریق یہ کہتا ہے کہ آپ نبوت کا شعبہ قویہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور حدیث صحیح مسلم کا لفظ نبی اللہ آپ پر صادق آتا ہے مگر آپ کی نبوت محد ثیت تک محدود ہے اور ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ علی وجہ الکمال محدث ہیں جو نبی ہی ہوتا ہے۔لہذا آپ کا مقام نبوت محض محدث کے مقام سے بالا ہے۔یہ محض لفظی نزاع ہے۔کیونکہ ہم دونوں فریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اور رسول بھی جانتے ہیں اور ہمیں اس نبی اور رسول کے معنی میں بھی اتفاق ہے اور ہم دونوں فریق آپ کو تشریعی اور مستقل نبی نہیں جانتے بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی جانتے ہیں۔مگر اشتہار ایک غلطی کا ازالہ کی روشنی میں ہم آپ کی نبوت کو محض محدثیت نہیں سمجھتے کیونکہ ایسا کہنے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منع فرمایا ہے۔اور اپنا مقام یہ قرار دیا ہے:۔”خود حدیثیں پڑھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اسرائیلی نبیوں کے مشابہ لوگ پیدا ہوں گے اور ایک ایسا ہوگا کہ ایک پہلو سے نبی ہوگا اور ایک پہلو سے امتی۔وہی مسیح موعود کہلائے گا“۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 104 حاشیہ )