احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 477
477 حصہ دوم زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ۔أُرِيْكَ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ“ ( تذکره صفحه 521 مطبوعہ 2004ء) گو زلزلہ میں تاخیر ہوگئی تھی۔مگر اس آخری الہام کے مطابق یہ زلزلہ مرزا صاحب کی زندگی میں آنا چاہیے تھا۔اعتراض یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی ایسا زلزلہ نہیں آیا ؟ الجواب:۔وہ زلزلہ جس کے نہ دیکھنے کے متعلق الہام ہوا تھا اور جس میں تاخیر ڈال دی گئی تھی وہ ایسا زلزلہ تھا جس کا تعلق عینی رویت سے تھا۔اس کے ظہور کے وقت کو خدا نے أَخَّرَهُ اللهُ إِلَى وَقتٍ مُسَمًّى “ کہہ کر غیر معین کر دیا۔اور ” رَبِّ لَا تُرنی “ کے الہامی الفاظ سے یہ بتا دیا کہ اس میں اتنی تاخیر ہو جائے گی کہ آپ اسے اپنی ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھیں گے۔پس ان الہامات کے بعد 9 را پریل کو جس زلزلہ کے رَبِّ أَرِنِى زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ اُرِيْكَ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ “ کے الفاظ میں دکھانے کا وعدہ تھا۔اس کا تعلق رویت کشفی سے تھا۔اور آپ کو وہ زلزلہ کشفا دکھایا گیا۔چنانچہ 11 جون 1906ء کے الہامات میں درج ہے:۔ایک زلزلہ کا نظارہ دکھائی دیا اور ساتھ ہی اس کے الہام ہوا۔لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 66 ( تذکره صفحه 536 مطبوعہ 2004ء) کشفی نظارہ میں جو زلزلہ آپ کو دکھایا گیا تھا۔وہ ایک تعبیر چاہتا تھا۔لہذا ” يُرِيْكُمُ اللَّهُ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ “ کے الہام میں قوم کے لئے اس زلزلہ کو ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کی پیشگوئی تھی۔چنانچہ یہ زلزلہ عظیمہ بصورت جنگ عظیم