احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 26
تعلیمی پاکٹ بک 26 حصہ اول غنودگی جاتی رہی اور آپ ﷺ مسجد حرام میں تھے ) بھی اس بات پر روشن دلیل ہے کہ معراج نبوی علی ایک روحانی امر تھا۔:8 تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ۔سورۃ بنی اسرائیل) وَإِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِيْثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّهِدِينَ۔(آل عمران : 82) ترجمہ: اور جب خدا نے نبیوں کا عہد لیا کہ جو بھی کتاب اور حکمت میں تمہیں دوں پھر تمہارے پاس کوئی ایسا رسول آئے جو اس کلام کو پورا کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور ہی اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا اور فرمایا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے ذمہ داری قبول کرتے ہو اور انہوں نے کہا ہاں ہم قرار کرتے ہیں۔فرمایا اب تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔استدلال: اس آیت کے دو معنی کئے جاتے ہیں اول یہ کہ تمام نبیوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کا عہد لیا گیا۔دوم یہ کہ ہر پہلے نبی سے پچھلے نبی پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کرنے کا عہد لیا گیا۔یہ عہد انبیاء سے ان کی قوموں کے لئے لیا گیا کہ وہ اپنی قوموں کو ہدایت کر جائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا آئندہ آنے والے نبی پر ایمان لائیں اور اس کی نصرت کریں۔کیونکہ نبی بوجہ امام ہونے کے قوم کا بھی نمائندہ ہوتا ہے۔اگر عہد کرنے والا نمائندہ خود موجود ہو تو اس کا اور اس کی قوم کا یہ اخلاقی اور شرعی فرض ہوتا ہے