احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 426 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 426

426 حصہ دوم استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اُس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اُس کا دشمن ہے۔اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اُس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے۔جیسا کہ ایک صاف آئینہ ایک خوبصورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں کون جانتا ہے ان کی قدر مگر وہی جو انہی میں سے ہے۔دنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔یہی وجہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبت کی تا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی محبت کی جاتی۔غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسین یا کسی اور بزرگ کی جو ائمہ مطہرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف ان کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔جو شخص مجھے بُرا کہتا ہے یا لعن طعن کرتا ہے اس عوض میں کسی برگزیدہ اور محبوب الہی کی نسبت شوخی کا لفظ زبان پر لانا سخت معصیت ہے۔ایسے موقعہ پر درگزر کرنا اور نادان دشمن کے حق میں دعا کرنا بہتر ہے۔کیونکہ اگر وہ لوگ مجھے جانتے ہیں کہ میں کس کی طرف سے ہوں۔تو ہر گز بُرا نہ کہتے۔وہ مجھے ایک دجال اور مفتری خیال کرتے ہیں۔میں نے جو کچھ اپنے مرتبہ کی نسبت کہا وہ میں نے نہیں کہا بلکہ خدا نے کہا۔پس مجھے کیا ضرورت ہے۔کہ ان بحثوں کو طول دوں۔اگر میں در حقیقت مفتری اور دجال ہوں۔اور اگر در حقیقت میں اپنے ان