احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 424
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 424 حصہ دوم مشکلات میں گھرا ہوا ہوں۔عموماً شعراء کربلا اور حسین سے مشکلات مراد لیتے ہیں۔علامہ نوعی تحریر فرماتے ہیں:۔کر بلاء عشقم ولب تشنہ سرتا پائے من صدحسینے کشته در ہر گوشہ صحرائے من ( دیوان علامه نوعی ) اس شعر میں صدحسین سے صدر با مشکلات مراد لی گئی ہیں۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ عشق کی وجہ سے میں کربلا میں ہوں۔اور سرتا پا تشنہ لب ہوں۔نو کشتہ حسین میرے صحرا کے ہر ایک گوشہ میں موجود ہیں۔گویا شاعر اپنے عشق کی راہ میں شدائد کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ سینکڑوں حسین یعنی مشکلات اسے صحرائے عشق کے ہر گوشہ میں پیش آرہی ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر میں بھی ”صد حسین است“ کے الفاظ میں مشکلات کا ہی ذکر ہے۔در گریبانم “ کے الفاظ میں گریبان سے مراد بطور مجاز مرسل بوجہ مجاورت دل مراد لیا جاتا ہے۔جیسے کہتے ہیں۔اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو۔مراد یہ ہوتی ہے۔کہ اپنی قلبی حالت کا مشاہدہ کرو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ بتارہے ہیں کہ اسلام پر دشمنانِ اسلام کے حملوں کی وجہ سے میرا دل صد با مشکلات و مصائب میں گھرا رہتا ہے۔مجاز مرسل کو نہر جاری ہے“ کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔کہ دراصل نہر تو اپنی جگہ کھڑی رہتی ہے۔البتہ اس میں پانی جاری ہوتا ہے۔