احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 420
420 حصہ دوم مقدم رکھنا اسی فرق دکھلانے کیلئے ہے کہ صھر میں خالص فاطمیت ہے اور نسب میں اس کی آمیزش۔(تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 117 حاشیہ) ایک کشف کی شہادت کہ آپ حضرت فاطمہ کی اولاد ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ کشف براہین احمدیہ میں یوں مذکور ہے:۔اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے۔سو اس میں بھی یہی بستر ہے کہ افاضئہ انوارالہی میں محبت اہل بیت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے۔جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے۔وہ انہیں طیبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے۔اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت حسن سے جو خفیف سے نشا سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی۔جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔پھر اُسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے۔یعنی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے اُن میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مهربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے۔جس کو علی نے تالیف کیا ہے اور اب علی وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے“۔براہین احمدیہ جلد چہارم روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 598-599 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فاطمتہ الزاہراء سے