احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 372 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 372

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 372 حصہ دوم ہے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ سخت الفاظ کا اپنے محل پر استعمال عند الشرع جائز لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ - (النساء: 149) آیت سے ظاہر ہے کہ مظلوم جواب میں اعلانیہ سخت الفاظ استعمال کر سکتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ سخت الفاظ اپنے محل پر بعض خاص مصالح کے ماتحت ہیں۔چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام خود تحریر فرماتے ہیں:۔سخت الفاظ استعمال کرنے کی وجہ مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی۔لیکن وہ ابتدائی طور پرسختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں۔مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دُشنام دہی کے رنگ میں تھے جن کے مقابل پر کسی قدر سختی مصلحت تھی۔اس کا ثبوت اس مقابلہ سے ہوتا ہے۔جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مسل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کیے ہیں۔جس کا نام میں نے کتاب البریہ رکھا ہے۔بایں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں۔ابتد اختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے اور میں مخالفوں کے سخت الفاظ پر بھی صبر کر سکتا تھا لیکن دو مصلحت کے سبب سے میں نے جواب دینا مناسب سمجھا تھا۔اول یہ کہ تا مخالف لوگ اپنے سخت الفاظ کا سختی میں جواب پا کر اپنی روش بدلا لیں اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں۔دوم یہ کہ تا مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان جوش میں نہ آئیں اور سخت الفاظ کے جواب بھی کسی قدر سخت