احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 364
ندی علیمی پاکٹ بک 364 حصہ دوم مرزا غلام احمد مسیح موعود ہو کر صرف ان اجمالی کمالات آنحضرت کی تجلیات سے متجلی ہو کر جو آنحضرت کے وجود میں کمال تام حاصل کر چکی ہیں بمنزلہ آلہ کے ہیں۔اس میں کیا شک ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقیات روحانیہ غیر محدود ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات لا زوال ، غیر محدود اور ابدی ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ سے آنحضرت پر فیوض الہیہ کا نزول بھی لازوال اور ابدی ہے اور آپ اپنی شان میں ہر آن بڑھ رہے ہیں۔اگر آپ نے ایک مقام پر منجمد ہوکر رہ جانا ہوتا۔تو پھر درود شریف کی اُمت کو تلقین کیوں کی جاتی کہ اے اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی خاص رحمتیں نازل کرتارہ اور آپ کو سلامتی پر سلامتی عطا کرتا جا۔اگر دینا دلانا کچھ نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے درود شریف کا سکھانا ایک عبث فعل ہوتا۔پس سچی بات یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کمالات میں ہر آن ترقی کر رہے ہیں۔اور اس ترقی کی کوئی انتہا نہیں۔بلکہ ہر آنے والے زمانہ میں خدا تعالیٰ سے فیوض حاصل کرنے کی وجہ سے آپ کی روحانیت ہمیشہ ترقی پاتی رہے گی۔اور اس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔اولیاء امت نے بھی اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ حقیقت محمدیہ ترقی پذیر رہے گی۔چنانچہ مجد دالف ثانی تحریر فرماتے ہیں:۔فقیر در رساله مبدء و معادنوشته است که حقیقت محمدی از مقام خود عروج نموده بمقام حقیقت کعبه که فوق اوست رسیده ممند گردد و حقیقت محمدی حقیقت احمدی نام یابد۔آں حقیقت کعبہ ظل از اظلال این حقیقت بوده۔(مکتوبات امام ربانی) ترجمہ :۔فقیر نے اپنے رسالہ مبدء ومعاد میں لکھا ہے کہ حقیقت محمدی اپنے مقام سے حقیقت کعبہ کے مقام کی طرف عروج اختیار کر کے پہنچے گی جو اس سے بالا ہے۔اور اُس وقت حقیقت محمدی کا نام حقیقت احمدی ہوگا۔اور حقیقت کعبہ حقیقت محمدی کے اظلال میں سے ایک ہے۔