احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 298
298 حصہ دوم احمد یتعلیمی پاکٹ بک طرح نیست و نابود ہو جائے گا۔حضرت اقدس کا ایک اجتہاد تھا جو آپ نے اپنے الهام اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحَابِ الْفِيلِ سے کیا حالانکہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب فیل کا واقعہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔اسی طرح یہ منشاء نہ تھا کہ وہ آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔شرح نبر اس صفحہ 392 میں لکھا ہے:۔كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم قد يجتهد فيكون خطأ كما ذكره الاصولیون۔(النبر اس شائع کردہ شاہ عبدالحق اکیڈمی دارالعلوم مظہر یہ امدادیہ بندیال سرگودھا) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اجتہاد فرماتے لیکن وہ واقعہ کے خلاف ہوتا۔جیسا کہ اصولیوں نے ذکر کیا ہے۔اس اصول کے ثبوت میں آگے یہ حدیث نبوی بھی درج ہے:۔ما حدثتكم عن الله سُبْحَانَهُ فهو حق وما قلت فيه من قبل نَفْسِى فَانّما أنا بشر اخطى واصيب - کہ جو بات میں نے تمہیں خدا کی طرف سے سُنائی ہو وہ تو درست اور حق ہوگی۔مگر جو بات اس کی تشریح میں اپنی طرف سے کہی ہو تو میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں۔میں خطا بھی کر جاتا ہوں اور دُرست بھی کہتا ہوں۔پیشگوئی کی الہامی غرض یہ تھی کہ آپ عبدالحکیم کے شر سے محفوظ رہیں گے۔اور خدا سچے اور جھوٹے میں فرق دکھلائے گا۔سوخدا نے آپ کو اس کے شر سے محفوظ رکھا۔اور اس کی پیشگوئی کو جھوٹا ثابت کر دیا۔اور حضور کو خدا نے اپنے الہامات کے مطابق وفات دی۔