احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 150
حدیث نهم 150 حصہ اوّل إِنِّي أَخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتُمُ اخِرُ الْأُمَمِ۔اس حدیث کے راوی الرحمن بن محاربی اور اسمعیل بن رافع ضعیف ہیں۔( ملاحظہ ہو میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 115 و تہذیب جلد 6 صفحہ 266) تا ہم اس روایت کو انہی معنوں میں قبول کیا جا سکتا ہے کہ اس جگہ لفظ آخر دونوں جگہ بمعنی افضل استعمال ہوا ہے اور مراد یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں سے افضل ہیں اور آپ کی اُمت تمام امتوں سے افضل ہے۔آخر سے مراد اس جگہ نبیوں کا مطلق آخری فرد نہیں ہوسکتا۔کیونکہ مسیح موعود کی نبوت احادیث نبویہ سے ثابت ہے۔قرآن مجید نے اُمت محمدیہ کو خیر امت قرار دیا ہے اسی مضمون کو حدیث کے الفاظ انْتُمُ اخِرُ الاُمَم میں بیان کیا گیا ہے۔اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہ استنباط کیا جا سکتا ہے کہ نئی اُمت بنانے والا کوئی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا اور مسیح موعود کو ایسا نبی مانا گیا ہے جو نبی بھی ہے اور امتی یعنی وہ کوئی نئی اُمت بنانے والا نہیں۔حدیث دہم حدیث میں آیا ہے:۔أَنَا الْمُقَفَّى جس کے معنی بعض لوگ آخری نبی کرتے ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ یہ معنی کرنے والے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلق آخری نبی نہیں مانتے کیونکہ یہ لوگ مسیح موعود کے نبی ہونے کے قائل ہیں۔صحیح معنی