احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 148
حصہ اوّل یمی پاکٹ بک 148 بعض کہتے ہیں کہ ایک حدیث میں آخِرُ الْمَسَاجِدِ الْأَنْبِيَاءِ کے الفاظ وارد ہیں کہ مسجد نبوی انبیاء کی مسجدوں میں سے آخری ہے مگر یہ حدیث ضعیف ہے صحیح حدیث مسلم کی ہی ہے تا ہم آخر کے معنی عربی زبان میں افضل کے بھی ہوتے ہیں۔لہذا اس حدیث کے معنی ہوں گے مسجد نبوی انبیا ء کی مساجد سے افضل ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں۔چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے شرى وُدِّى وَ شُكْرِى مِنْ بَعِيدٍ الأخرِ غَالِبِ أَبَداً رَبِيعِ (حماسه باب الادب) ترجمه : ربیع بن زیاد نے میری دوستی اور شکر کو دور بیٹھے ایسے شخص کے لئے جو بنی غالب میں سے آخری یعنی ہمیشہ کے لئے عدیم المثال ہے خرید لیا ہے۔پس آخر کے معنی سب سے افضل اور عدیم المثال کے بھی ہوتے ہیں۔لہذا حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں سے افضل اور عدیم المثال ہیں اور آپ کی مسجد سب مسجدوں سے افضل اور عدیم المثال ہے (خواہ انبیاء کی مساجد ہوں یا غیر انبیاء کی پہلے کی ہوں یا بعد کی ، لیکن خانہ کعبہ کوسب سے افضلیت حاصل ہے کیونکہ وہ بیت اللہ ہے) حمد بہث ہشتم اَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ۔(ترمذی کتاب الاداب باب ماجاء فی اسماء النبی) ترجمه : میں العاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔