اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 249 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 249

ازواج النبی 249 ازواج النبی کے حجرات ازواج النبی کے حجرات مدینہ ہجرت فرما کر آنحضور ملی یا تم نے مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد اس سے متصل ازواج مطہرات کیلئے مکان بنوائے۔اس وقت تک صرف حضرت سودہ اور حضرت عائشہ ہی آپ کے عقد میں تھیں۔جن کے لئے دو حجرے بنوائے گئے۔اس کے بعد دیگر ازواج کے عقد میں آنے پر اور مکان بھی بنتے گئے۔جو کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں کے تھے۔مسجد نبوی سے ملحق قبلہ رخ بائیں ہاتھ پر حضرت عائشہ کا مکان تھا اور ان کے ساتھ حضرت سودہ کا۔حضرت عائشہ کا حجرہ امام کے مقام کے ساتھ سامنے کی جانب تھا، یہ وہی حجرہ ہے جس میں حضور طی یا تم نے اپنی بیماری کے آخری ایام گزارے، اس دوران ایک دفعہ جب آپ نے اپنے بستر سے جھانک کر صحابہ کو نماز میں مشغول پایا تو بہت خوش ہوئے۔اسی حجرہ میں آپ نے وفات پائی اور پھر یہیں تدفین ہوئی۔باقی حجرات کے متعلق یہ بات بھی یقینی ہے کہ وہ ان دو حجروں ( حجرہ حضرت عائشہ اور حجرہ حضرت سودہ) کے مقابل پر شامی جانب تھے۔ان میں بالترتیب حضرت ام سلمہ حضرت ام حبیبہ ، حضرت زینب بنت خزیمہ، حضرت جویریہ ، حضرت میمونہ، حضرت زینب بنت جحش کے گھر تھے۔ان گھروں کے درمیان جو دروازہ مسجد نبوی میں کھلتا تھا وہ باب النساء سے موسوم تھا۔ازواج مطہرات کے یہ سادہ مکانات چھ چھ ، سات سات ہاتھ چوڑے اور دس دس ہاتھ لمبے تھے۔چھت اتنی اونچی تھی کہ آدمی کھڑا ہو تو چھت کو چھو سکتا تھا۔دروازوں پر پردہ ہوتا تھا۔حضرت حفصہ کا گھر وہ تھا جس میں ایلاء کا وہ واقعہ پیش آیا، جب آنحضور طی می کنیم نے ایک مہینہ تک ازواج کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی اور یہ عرصہ بالا خانہ میں گزارا، اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ گھر دو منزلہ تھا۔اسی طرح بعض دیگر ازواج کے گھروں میں بھی بالا خانہ کا بھی ذکر ملتا ہے جو شاید آخری سالوں میں تیار کئے گئے تھے۔واللہ اعلم ( بخاری کتاب الطلاق باب قول اللہ تعالی الذین یولون من نسائهم)