اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 10 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 10

ازواج النبی 10 تعددازدواج بات کا اقرار کریں گے کہ قرآن نے ان رسموں کو گھٹایا ہے نہ کہ بڑھایا پس جس نے تعدد ازدواج کی رسم کو گھٹایا اور نہایت ہی کم کر دیا اور صرف اس اندازہ پر جواز کے طور پر رہنے دیا جس کو انسان کی تمدن کی ضرورتیں کبھی نہ کبھی چاہتی ہیں کیا اس کو کہہ سکتے ہیں کہ اس نے شہوت رانی کی تعلیم سکھائی ہے ؟" O تعدد ازدواج کی ایک حکمت کثرت نسل بیان کرتے ہوئے حضرت بانی جماعت احمدیہ نے فرمایا:۔چار بیویاں رکھنے کا حکم تو نہیں دیا بلکہ اجازت دی ہے کہ چار تک رکھ سکتا ہے۔اس سے یہ لازم تو نہیں آتا کہ چار ہی کو گلے کا ڈھول بنالے۔قرآن کا منشاء تو یہ ہے کہ چونکہ انسانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اس واسطے ایک سے لے کر چار تک اجازت دیدی ہے " 12 اسی طرح آپ فرماتے ہیں:۔"قرآن شریف میں انسانی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے تعدد ازدواج کو روا رکھا ہے اور منجملہ ان ضرورتوں کے ایک یہ بھی ہے کہ تا بعض صورتوں میں تعددِ ازدواج نسل قائم رہ جانے کا موجب ہو جائے کیونکہ جس طرح قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے اسی طرح نسل سے بھی قو میں بنتی ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ کثرت نسل کے لئے نہایت عمدہ طریق تعدد ازدواج ہے' بے اعتدالی کے اعتراض کا جواب 13 11 تعدد ازواج میں بے اعتدالی کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔اس جگہ مخالفوں کی طرف سے یہ اعتراض ہوا کرتا ہے کہ تعدد ازدواج میں یہ ظلم ہے کہ اعتدال نہیں رہتا۔اعتدال اسی میں ہے کہ ایک مرد کے لئے ایک ہی بیوی ہو مگر مجھے تعجب ہے کہ وہ دوسروں کے حالات میں کیوں خواہ نخواہ مداخلت کرتے ہیں جب کہ یہ مسئلہ اسلام میں شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے مگر جبر کسی پر نہیں اور ہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخوبی خبر ہے تو یہ ان عورتوں کا حق ہے کہ جب کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں تو اول شرط کرالیں کہ اُن کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا اور اگر نکاح سے پہلے ایسی شرط لکھی جائے تو بیشک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جرم نقض عہد کا مر تکب ہو گا۔لیکن اگر کوئی عورت ایسی شرط نہ لکھاوے اور حکم شرع پر راضی ہووے تواس حالت میں دوسرے کا دخل دینا بیجا ہو گا "