ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 421 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 421

421 ادب المسيح اگر اس محل کو طالب لگائے تو اک دن ہو رہے برتھا نہ جائے ہمارا کام تھا وعظ و منادی سو ہم سب کر چکے والله هادی فارسی زبان میں مشاہدہ کریں۔اول تقریبا پچاس اشعار خدا تعالیٰ کی عظمت و شان میں بیان کر کے اپنی محبت اور عبودیت کو بیان کرتے ہیں۔اور آخر پر اپنا طلب اور مدعا اس طور سے بیان کرتے ہیں کہ کسی بھی زبان میں ایسی درد بھری۔محبت الہی سے لبریز دعا اور ایسی حسن طلب دستیاب نہیں ہوگی۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ حضرت کے اشعار میں مناجات کے آخری چند شعر مناجات میں آپ کا شاہکار اور حاصل کلام ہیں۔اول حمد و ثنا میں فرماتے ہیں: هردم از کاخ عالم آوازیست که یکش بانی و بنا سازیست یہ نظامِ عالم اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اس جہان کا کوئی بانی اور صانع ضرور ہے کس او را شریک و انبازیست نے بکارش دخیل و ہمرازیست کہ کوئی اُس کا شریک ہے نہ سا جھی۔نہ اُس کے کام میں کوئی دخیل ہے نہ کوئی اُس کا ہمراز ہے این جہاں را عمارت انداز بیست و از جہاں برتر است و ممتاز بیست وہ اس جہان کا بنانے والا ہے۔مگر خود جہاں سے بالاتر اور ممتاز ہے وحده لاشریک کی و قدیر لم يزل لایزال فرد و بصیر اکیلا لاشریک زندہ اور قادر ہے۔ہمیشہ سے ہے۔ہمیشہ رہے گا۔یگانہ اور باخبر ہے اور پھر اظہار عبودیت اور محبت میں فرماتے ہیں: نہ ہے۔هست یادت کلید ہر کارے خاطرے بے تو خاطر آزارے تیری یاد ہر مشکل کی کلید ہے۔تیرے بغیر ہر خیال دل کا دکھ ہر کہ نالد بدر گہت نیاز بخت گم کرده را بیابد باز جو تیرے حضور میں عاجزی سے روتا ہے وہ اپنی گم گشتہ قسمت کو دوبارہ پاتا ہے لطف تو ترک طالباں نکند کس بکار رہت زیاں نکند تیری مہربانیاں طالبوں کو نھیں چھوڑتیں کوئی تیرے معاملے میں نقصان نہیں اٹھاتا