ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 371
371 ادب المسيح إِنِّي تَرَكْتُ النَّفْسَ مَعَ جَذَبَاتِهَا لَمَّا أَتَانِي طَالِبُ الطَّلَبَاء میں نے نفس کو اس کے جذباب سمیت چھوڑ دیا جب میرے پاس طالبوں کا طالب آیا۔مُتُنَا بِمَوْتِ لَا يَرَاهُ عَدُونَا بَعُدَتْ جَنَازَتُنَا مِنَ الْأَحْيَاءِ ہم ایسی موت سے مرچکے ہیں جس کو ہمارا دشمن نہیں دیکھ سکتا۔ہمارا جنازہ زندوں سے بہت دور ہو گیا ہے۔غَلَبَتْ عَلَى قَلْبِي مَحَبَّةُ وَجْهِهِ حَتَّى رَمَيْتُ النَّفْسَ بِالْإِلْغَاءِ میرے دل پر اس کے چہرے کی محبت غالب آگئی یہاں تک کہ میں نے اپنے نفس کو اور اس کی خواہشات کو باطل اور کالعدم بنا کر پھینک دیا۔وَ أَرَى الوَدَادَ أَنَارَ بَاطِنَ بَاطِنِي وَأَرَى التَّعَشْقَ لَاحَ فِي سِيمَائِي میں دیکھتا ہوں کہ محبت نے میرے باطن کے باطن کو منور کر دیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ عشق میرے چہرے پر ظاہر ہو گیا ہے۔مَا بَقِيَ فِي قَلْبِي سِوَاهُ تَصَرُّرٌ غَمَرَتْ آيَادِى اللَّهِ وَجُهَ رَجَائِي میرے دل میں اس کے سوا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔خدا تعالیٰ کے احسانات نے میری خواہشوں کے منہ کو ڈھانپ لیا ہے۔هَوْجَاءُ الْفَتِهِ أَثَارَتْ حُرَّتِي فَفَدَا جَنَانِى صَوْلَةَ الْهَوْجَاءِ اس کی الفت کی تیز ہواؤں نے میری خاک اڑادی پس میرا دل ان ہواؤں کی شدت پر قربان ہو گیا۔دوسرے مقام پر اس عظیم الشان محبت بھری ثناء باری تعالیٰ کا لطف لیں۔جوش محبت سے بھرا ہوا کلام ہے۔ایسا جوش جس کو قابو میں لانا مشکل ہو۔فرماتے ہیں: لَكَ الْحَمْدُ يَا تُرسِي وَ حِرْزِى وَ جَوْسَقِى بِحَمْدِكَ يُرُوى كُلُّ مَنْ كَانَ يَسْتَقِى اے میری پناہ اور میرے قلعہ! تیری تعریف ہو، تیری تعریف سے ہر ایک شخص جو پانی چاہتا ہو سیراب ہو جاتا ہے بذِكْرِكَ يَجْرِى كُلُّ قَلْبِ قَدِ اعْتَقَىٰ بحُبِّكَ يَحْيَى كُلُّ مَيْتٍ مُمَزَّقٍ تیرے ذکر کیساتھ ہر ایک دل ٹھہرایا ہوا جاری ہو جاتا ہے اور تیری محبت کے ساتھ ہر ایک مردہ زندہ ہو جاتا ہے