ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 343
343 ادب المسيح حضرت ابوبکر کی شان میں عظیم الشان منقبت بیان کرتے ہیں: وَ إِنِّي أَرَى الصِّدِّيقَ كَالشَّمْسِ فِي الضَّحَى مَائِرُهُ مَقْبُولَةٌ عِندَ هُو جِرٍ میں (ابوبکر صدیق کو چاشت کے سورج کی طرح پاتا ہوں آپ کے مناقب و اخلاق ایک روشن ضمیر انسان کی نگاہ میں مقبول ہیں وَ كَانَ لِذَاتِ الْمُصْطَفَى مِثْلَ ظِلِهِ وَمَهُمَا أَشَارَ الْمُصْطَفَى قَامَ كَالُجَرِى وہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آپ کے سائے کی مثل تھا اور جب بھی مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے اشارہ کیا تو وہ بہادر کی طرح اٹھ کھڑا ہوا وَ أَعْطى لِنَصْرِ الدِّينِ أَمْوَالَ بَيْتِهِ جَمِيعًا سِوَى الشَّيْءِ الْحَقِيرِ الْمُحَقَّرِ اور اس نے دین کی نصرت کے لئے اپنے گھر کے سب اموال دے دیئے سوائے نا چیز اور معمولی اشیاء کے وَلَمَّا دَعَاهُ نَبِيِّنَا لِرِفَاقَةٍ عَلَى الْمَوْتِ أَقْبَلَ شَائِقًا غَيْرَ مُدْبِرِ اور جب ہمارے نبی نے اسے رفاقت کے لئے بلایا تو وہ موت پر شوق کے ساتھ آگے بڑھا اس حال میں کہ وہ پیٹھ پھیر نے والا نہ تھا وَ لَيْسَ مَحَلَّ الطَّعْنِ حُسْنُ صِفَاتِهِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ أَزْمَعْتَ جَوْرًا فَعَيْرِ اور اس کی اچھی صفات طعن کا محل نہیں۔اگر تو نے ظلم سے ارادہ کیا ہے تو عیب لگاتا رہ أَبَادَ هَوَى الدُّنْيَا لِإِحْيَاءِ دِينِهِ وَ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ مِنْ كُلِّ مَعْبَرٍ اس نے دنیا کی خواہشات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے احیاء کی خاطر مٹا دیا اور رسول اللہ کے پاس ہر گزرگاہ سے آیا عَلَيْكَ بِصُحُفِ اللَّهِ يَا طَالِبَ الْهُدَى لِتَنْظُرَ اَوْصَافَ الْعَتِيقِ الْمُطَهَّر اے طالب ہدایت! اللہ کے صحیفوں کو لازم پکڑتا تو اس پاک شریف النفس کے اوصاف دیکھے وَ مَا إِنْ أَرَى وَاللَّهِ فِي الصَّحُبِ كُلِّهِمْ كَمِثْلِ أَبِي بَكْرٍ بِقَلْبٍ مُّعَطَّرِ اور خدا کی قسم! میں تمام کے تمام صحابہ میں کوئی شخص ابوبکر کی طرح معطر دل والا نہیں پاتا تَخَيَّرَهُ الْأَصْحَابُ طَوْعًا لِفَضْلِهِ وَلِلْبَحْرِ سُلْطَانٌ عَلَى كُلِّ جَعْفَرٍ صحابہ نے بخوشی اس کی بزرگی کی وجہ سے اس کا انتخاب کیا۔اور سمندر کو غلبہ حاصل ہے ہر دریا پر وَيُثْنِي عَلَى الصِّدِيقِ رَبِّ مُّهَيْمِنٌ فَمَا أَنْتَ يَا مِسْكِينُ إِنْ كُنْتَ تَزْدَرِى اور رب تصمیمن صدیق کی مدح کر رہا ہے۔پس اے مسکین ! تو کیا چیز ہے؟ اگر تو عیب لگاتا ہے