ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 304
المسيح 304 اور فرماتے ہیں کہ دین اسلام کے احیاء کے لئے آپ کو مبعوث کیا گیا ہے إِنِّي صَدُوقٌ مُصْلِحْ مُتَرَدِّمُ سَمُّ مُعَادَاتِي وَسِلْمِي أَسْلَمُ میں صادق اور مصلح ہوں اور میری دشمنی زہر اور میری صلح سلامتی ہے إِنِّي أَنَا الْبُسْتَانُ بُسْتَانُ الْهُدَى تَأْتِي إِلَيَّ الْعَيْنُ لَا تَتَصَرَّمُ میں باغ ہدایت ہوں۔میری طرف وہ چشمہ آتا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوتا رُوحِي لِتَقْدِيسِ العَلِيِّ حَمَامَةٌ أَوْ عَندَلِيبٌ غَارِدٌ مُتَرَبِّمُ میری روح خدا کی تقدیس کے لئے ایک کبوتر ہے یا بلبل ہے جو خوش آوازی سے بول رہی ہے مَا جِئْتُكُمْ فِي غَيْرِ وَقْتٍ عَابِيًّا قَدْ جِئْتُكُمْ وَالْوَقْتُ لَيْلٌ مُظْلِمُ میں تمہارے پاس بے وقت نہیں آیا۔میں اس وقت آیا کہ ایک اندھیری رات تھی صَارَتْ بِلَادُ الدِّينِ مِنْ جَدْبِ عَتَا أَقْوى وَ أَقْفَرُ بَعْدَ رَوضِ تَعْلَمُ دین کی ولایت بباعث قحط کے، جو غالب آ گیا ، خالی ہو گئی بعد اس کے جو وہ ایک باغ کی طرح تھی هَلْ بَقِيَ قَوْمٌ خَادِمُونَ لِدِينِنَا اَمُ هَلْ رَتَيْتَ الذِينَ كَيْفَ يُحَطَّمُ کیا وہ قوم باقی ہے جو ہمارے دین کی خدمت کریں اور کیا تو نے نہیں دیکھا کہ دین کو کس طرح مسمار کیا جاتا ہے فاللَّهُ أَرْسَلَنِي لِأُحْيِيَ دِينَهُ حَقٌّ فَهَلْ مِنْ رَاشِدِ يَسْتَسْلِمُ سوخدا نے مجھے بھیجا تا کہ میں اس کے دین کو زندہ کروں یہ سچ ہے۔پس کیا کوئی ہے جو اطاعت کرے جَهدُ الْمُخَالِفِ بَاطِلٌ فِي أَمْرِنَا سَيْفٌ مِنَ الرَّحْمَنِ لَا يَتَكَلَّمُ مخالف کی کوشش ہمارے امر میں باطل ہے یہ خدا کی تلوار ہے جس میں رخنہ نہیں ہوسکتا فِي وَجْهِنَا نُورُ الْمُهَيْمِنِ لَائِحٌ إِنْ كَانَ فِيكُمْ نَاظِرٌ مُتَوَسِمُ ہمارے منہ میں خدا تعالیٰ کا نور واضح ہے اگر کوئی تم میں دیکھنے والا ہو الْيَوْمَ يُنْقَضُ كُلُّ خَيْطِ مَكَائِد لِينٌ صَحِيلٌ أَوْ شَدِيدٌ مُبْرَمُ آج ہر ایک مکر کا تاگا توڑ دیا جائے گا، نرم اک تارہ ہو یا سخت دو تارہ ہو اور آخر پر خدمت اسلام کو احسن طریق سے بجا لانے کے لیے خدا تعالیٰ کی جناب میں ایک درد ناک مناجات میں فرماتے ہیں۔فَخُذُ بِيَدِى يَا رَبِّ فِي كُلِّ مَوْطِنٍ وَايَدُ غَرِيبًا يُلَعَنَنُ وَيُكَفَّرُ اے میرے رب ! ہر معرکہ میں میرا ہاتھ پکڑا اور اس بے یارومد گار کی تائید فرما جو لعنت اور تکفیر کیا جارہا ہے