آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 28 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 28

الحدیث امر شد مفقود الخ و سمیر نام کے اہلحدیث میں یہ اگر آپ کا کی اتر کر اٹھا اپنے ناسمان شفق ہی پر ہاتھ اٹھانے لگا جسپر انھوں نے مجبو ر ایک فتوی اکہ پنجاب کے سراج الاخبار نے لکھا تہاکر مفقود الخیر شائع کر کے اسے اپنی جماعت سے خارج کر دیا " شخص کی بیوی سے جو چار سال بعد نکاح کرتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے، اس کا جواب اس بیان میں فاضل مضمون نگار نے محض بازاریوں کی آپ کی پیروی کی اور میر اسی پر چه د دسمبر میں جا گیا تھا کہ مفقود اجر کی بیوی کا چار سال کے بعد نکاح حق پوشی سے کام لیا۔ورنہ گروہ حق گوئی کرتا تو یہ بھی کہتا البعض علماء الحدیث نے کر دینا بڑے بڑے صحابہ اور علماء محدثین وفقہا سے ثابت ہے جن کے پہلے اڈیر الحدیث کی مخالفت کا فتوی شائع کیا لیکن جب جواب نکلا تو اثر عالم مشاہیر نے بھی اسی پرچہ میں دئے گئے۔اس سے بعد 10 جنوری کے سراج الاخبار میں اس پر فتوی کو غلط جانا یہ راس نزاع کو بھی اٹھا دینے کیلئے فوری طور پر آرہ میں ہماسے اس مضمون کا جواب نکلا جواب کیا تھا گویا اپنے دعوی کی تردید اور ہماری تین برگزیدہ علماء منصف ہوئی جنہوں نے متفقہ فیصلے سے مخالفین کے فتوی نائی تھی مگر ہم سے اس کا ہو اب جلدی ہو سکا جس کے کئی ایک باعث تھے۔کو غلط قرار دیا۔یہ تو ہے اصل واقعہ مگر اس کو صراح انا خیباس کے فاضل مضمون نگار ایک تو اس جواب میں کتاب بھیج کا حوالہ تها جو ایک ایسی نامشہور اور غیر متداول نے کیوں سارا بیان نہ کیا ؟ اسکا جواب ہم نہیں دیکھتے۔اسکی وجہ رہی بتا ئیگا۔کتاب ہو کہ حافظ ریسی اور حافظ ابن حجر جیسے علامہ حدیث بھی اُس سے آشنا اس کے علاوہ فاضل موصوف نے حق بپوشی کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ با SIL5 نہیں۔اسیلئے ان و دنوں حضرات نے ہمالیہ کی تخریجو نیں کتاب الجھے کی روائت کلام کو نقل نہیں کی بلکہ پی ہی کہتے گئے ہم نے تجربہ ہو دیکھا کہ میپوشوں کی یہ ایجاد مذکورہ کی بابت انا وہ علم ظاہر کیا۔خیر و نا مسرح الاخبار میں اس کا حوالہ تنہا قدیم سے ہو کہ فریق مخالف کو مضمون کو اسی کو مفاظ میں پورا پور نقل نہیں کرتے اس لئے اس کی تلاش کی تو کہیں سے نہ ملی آخر مدرسہ احمدیہ آرہ سے ملی تیو جسکو اس میں شک ہو وہ مرزا صاحب قادیانی اور اڈ ٹرائل فقہ کا ماربقیہ دیکھے سے کھنی اسکو دیکها گیاه دو سرا باعث اس تاخیر کایہ ہوا کہ بعض مضامین ضروری اور بعض ہم عبدة - موسمی ایسے آتے رہتے کہ ہر ہفتہ اس جواب کے ارادہ پر اسکا غلبہ رہا۔بہر حال آج خیر اس شخصی بحث سوا کی ملکہ آپ اپنی اصل مضمون پر آتے ہیں:۔ہم اس کا جواب دیتے ہیں، اور بلاتے ہیں کہ سراج الاخبار کے کسی مجہوں مضموں مفقود الزوج عورت کو نکاح ثانی کے جائز ہونے کو بار میں حنفی مذہب کے نگار نے جو بہانا جواب لکھا ہو وہ حقیقتاً اپنے مذہب کے مخالف اور ہماں کہ مذہب کے ولائل اور برا میں لکھی جاتی ہیں، اور قران وحدیث اور اقوال صحابه دغیر یم اور قیاس موافق لکھا ہی مگر فاضل مضمون نگار کو میں بائیں کی خبر نہیں کہ کہاں کو جاتے ہیں۔شرعیہ کی سیر کرا کر معترض کا تحقیقی معلومت بنانا ہے جاتے ہیں پھر اس کو ان دلائل یہی افسوس نہیں کہ مضمون ان کارت اپنے مذہب کا ملات کیا ہے جسے وہ نہیں سمجھے کی قلعی کھولی جائیگی ہیں وہ ہی ہو اپنی نادانی کی با دو کیا کہا ہو اور پس مصنع بلکہ یہی افسوس ہو کہ انہوں نے دروغ گوئی اور حق پوشی سے کام لیا ہے اے ہو کہ منفی مذہب میں مفقود سیاره شخص مرا در بر جس کا کوئی پتو نشان اور چینی مرنے کی کاش یه دروغ گوئی کسی مرضی کام میں ہوتی مفید نہیں بلکہ محض شخصی حملے میں۔چنانچہ خبر معلوم ہو۔حوالہ شخص اس حقہ مذ ہب میں اپنی ذات کیلئے تو زندہ ہو اس کی بی بی نکاح ثانی نہیں کر سکتی اور اس کا مال ورثا میں تقسیم ہو سکتا ہے جبکہ قاضی کو لازم اپ نے شریرے مضمون میں لکھا ہوا۔محدیث اور شرح اشتہاری دنیا میں منو چار سالہ بچہ 5 ابتدا میں دو چار دفعہ آریون ہے کہ کوئی شخص مقرر کردی جو اسکی ان کی حفاظت کر کے احسا سکو دیون وصول کر داد۔اور مرزائیوں کے ساتھ ہاتھوں پائی کرنے و اپنے خام خیال میں مرد میدان بکر جس مال کو خراب ہونیکا اندیشید ہو اس کو بیچلتا ہے اور اس کی اولاد بی بی اور الیان اری میں پنیر بہائیوں کو دست گریبان ہونے لگا تھا جب انہوں نے پر خرچ کریں لیکن غیر کے آتے ہیں وہ نہ رہ ہی خیر کے ترکہ کا وارث ہوگا بلکہ اس کا اسکو اس کی تحیت کو علمی اور اعتقادی غلطیاں اور نہ تعلیقانہ خیالات انتخاب حصہ ابرس ایک موقف کیا جائیگا اور 4 برس کے بعد تا منی اس کی موت کا حکم که در گذشته به تاب اور آننده و محتاط ہونیکی دبیت کی تو وہ اپنی خیالی یا مودی پر عنہ اس میں منفی مذہب کی کیا صومیہ سے سب میں یہی تعریف ہے۔(اڈیٹر) و شخص اگر میری اور مریم اصلاح الاخبار کا بٹیر گھروں کی اس مجھے عہ یہ دوری کہاں سے آئی۔ازمیر ار انہوں نگار کو چاہو گے ملک کو انا تھا ان کو ایس ای شیر م اس دوری کو یاد ہو گا پھر کہا گیا کہ آپ کو دعوی در دلیل میں تقریب تام جو لاڈ میٹر آن مجیٹھہ کو نامہ اخبار جاری کی ۲۸