عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 234
عائلی مسائل اور ان کا حل گو مختلف صنف سے اُن کا تعلق ہے۔لیکن میاں بیوی کے رشتے میں منسلک ہونے کے بعد ایک اکائی بن جاتے ہیں۔یہی وہ رشتہ اور جوڑ ہے جس سے آگے نسل چلتی ہے۔اگر اس اکائی میں تقویٰ نہ ہو ، اس جوڑے میں تقویٰ نہ ہو تو پھر آئندہ نسل کے تقویٰ کی بھی ضمانت نہیں اور معاشرے کے اعلیٰ اخلاق اور تقویٰ کی بھی ضمانت نہیں، کیونکہ ایک سے دو اور دو سے چار بن کے ہی معاشرہ بنتا ہے۔پس ایک مومن جب تقویٰ کی تلاش میں ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے لئے نہیں ہو تا بلکہ اپنی نسلوں کے لئے بھی، اپنے معاشرے کے لئے بھی۔اور جب اس بنیادی اکائی میں یہ تقویٰ ہو گا تو آئندہ نسل میں بھی تقویٰ کی ضمانت بن جائے گی اور پھر معاشرے کے تقویٰ کی ضمانت ہو گی۔اعلیٰ اخلاق معاشرے میں ہمیں نظر آئیں گے۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ تقومی سلامتی کا تعویذ ہے۔پس اگر تو آپ سلامتی چاہتی ہیں اور یقینا ہر و چاہتا ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو، یا مذ ہب پر یقین نہ بھی رکھتا ہو تو وہ یہ چاہتا ہے کہ سلامتی کے حصار میں ہو۔اُس کو سلامتی پہنچتی رہے۔دوسرے کو چاہے وہ سلامتی پہنچانے والا ہو نہ ہو، اپنے لئے وہ سلامتی چاہتا ہے۔ایک بد معاش ہے، ایک چور ہے، ایک ڈاکو ہے، وہ دوسرے کو بیشک نقصان پہنچاتا ہو اپنے آپ کو وہ چاہے گا کہ ہر قسم کے نقصانات سے محفوظ رہوں۔پس جب ہر ایک کی یہ خواہش ہے کہ اُس کو سلامتی ملے اور اُس کو کوئی نقصان نہ پہنچے ، اُس کے دن اور رات خیریت اور عافیت سے گزریں، ہر دشمن سے وہ 234