عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 208
عائلی مسائل اور ان کا حل دور کرنے والی بات ہو گی۔کئی ایسی بچیاں ہیں جو ایسے رشتوں کی وجہ سے جماعت سے تو کٹی ہیں، اپنے گھر والوں سے بھی کٹ گئی ہیں۔ان سے بھی وہ ملنے نہیں دیتے۔پس صرف روپیہ پیسہ دیکھ کر رشتے نہیں کرنے چاہئیں۔اللہ سے دعا کر کے ہمیشہ رشتے ہونے چاہئیں اور اسی طرح اور بھی قتل اولاد کی بہت ساری مثالیں ہیں۔جہاں جہاں تربیت میں کمی ہے وہ قتل اولاد ہی ہے۔پس ہمیشہ اولاد کی فکر کے ساتھ تربیت کرنی چاہئے اور ان کی رہنمائی کرنی چاہئے۔عورتوں کو اپنے گھروں میں وقت گزارنا چاہئے۔مجبوری کے علاوہ جب تک بچوں کی تربیت کی عمر ہے ضرورت نہیں ہے کہ ملازمتیں کی جائیں۔کرنی ہیں تو بعد میں کریں۔بعض مائیں ایسی ہیں جو بچوں کی خاطر قربانیاں کرتی ہیں حالانکہ پروفیشنل ہیں، ڈاکٹر ہیں اور اچھی پڑھی لکھی ہیں لیکن بچوں کی خاطر گھروں میں رہتی ہیں اور جب بچے اس عمر کو چلے جاتے ہیں جہاں ان کو ماں کی فوری ضرورت نہیں ہوتی ، اچھی تربیت ہو چکی ہوتی ہے تو پھر وہ کام بھی کر لیتی ہیں۔تو بہر حال اس کے لئے عورتوں کو قربانی کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے عورت کو جو اعزاز بخشا ہے کہ اس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے وہ اسی لئے ہے کہ وہ قربانی کرتی ہے۔عورت میں قربانی کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔جو عورتیں اپنی خواہشات کی قربانی کرتی ہیں ان کے پاؤں کے نیچے جنت ہے“۔(مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 15 مئی 2015ء) 208