عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 16
عائلی مسائل اور ان کا حل دوسرے میں عیب نظر آتا ہے یا اس کی کوئی اور ادانا پسند ہے تو کئی باتیں اس کی پسند بھی ہوں گی جو اچھی بھی لگیں گی۔تو وہ پسندیدہ باتیں جو ہیں ان کو مد نظر رکھ کر ایثار کا پہلو اختیار کرتے ہوئے موافقت کی فضا پیدا کرنی چاہئے۔آپس میں صلح و صفائی کی فضا پیدا کرنی چاہئے تو یہ میاں بیوی دونوں کو نصیحت ہے کہ اگر دونوں ہی اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں تو چھوٹی چھوٹی جو ہر وقت گھروں میں لڑائیاں ، چیخ چیخ ہوتی رہتی ہیں وہ نہ ہوں اور بچے بھی برباد نہ ہوں۔ذرا ذراسی بات پر معاملات بعض دفعہ اس قدر تکلیف دہ صورت اختیار کر جاتے ہیں کہ انسان سوچ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ ایسے لوگ بھی اس دنیا میں موجود ہیں کہ جو کہنے کو تو انسان ہیں مگر جانوروں سے بھی بد تر “۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 2 جولائی 2004ء بمقام انٹر نیشنل سنٹر ، مسی ساگا، کینیڈر مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 16 جولائی 2004ء) ایک دوسرے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ” شادی بیاہ کا تعلق بھی مرد اور عورت میں ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے۔عورت کو حکم ہے کہ اس معاہدے کی رو سے تم پر یہ فرائض ادا ہوتے ہیں مثلاً خاوند کی ضروریات کا خیال رکھنا، بچوں کی نگہداشت کرنا، گھر کے امور کی ادائیگی وغیرہ۔اسی طرح مرد کی بھی ذمہ داری ہے کہ بیوی بچوں کے نان نفقہ کی ذمہ داری اس پر ہے۔ان کی متفرق ضروریات کی ذمہ داری اس پر ہے اور دونوں میاں بیوی نے مل کر بچوں کی نیک تربیت کرنی ہے اس کی ذمہ داری ان پر ہے۔تو جتنا زیادہ میاں بیوی آپس میں اس معاہدے کی 16