عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 150
عائلی مسائل اور ان کا حل قائم رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بھی وارث بنتی چلی جائیں گی اور اُن لوگوں میں شمار ہوں گی جن کو پھر اللہ تعالی پیار کی نظر سے دیکھتا ہے۔اپنے عہد پورے کرنے والی ہوں گی“۔(لجنہ اماءاللہ جر منی کے سالانہ اجتماع کے موقع پر خطاب فرمودہ 17 ستمبر 2011ء مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 16 نومبر 2012ء) اس ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک اور موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درج ذیل اقتباس بھی پیش فرمایا اور اس کی وضاحت فرمائی: ”خاوندوں سے وہ تقاضے نہ کرو جو ان کی حیثیت سے باہر ہیں۔کوشش کرو که تا تم معصوم اور پاک دامن ہونے کی حالت میں قبروں میں داخل ہو۔خدا کے فرائض نماز، زکوۃ وغیرہ میں سستی مت کرو“۔اب نماز بھی فرض ہے ہر ایک پہ ، نماز ادا کرنی چاہئے اور یہی میں نے پہلے بھی کہا کہ عملی نمونہ ہو گا تو بچے بھی دیکھ کر اس طرف توجہ دیں گے۔پھر زکوۃ ہے ہر عورت کے پاس زیور ہوتا ہے اس کا جائزہ لے کر شرح کے مطابق زکوۃ دینے کی طرف بھی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ: ” اپنے خاوندوں کی دل و جان سے مطبع رہو۔ان کی اطاعت کرتی رہو۔بہت سا حصہ ان کی عزت کا تمہارے ہاتھ میں ہے۔یعنی خاوندوں کی عزت کا بہت حصہ تمہارے ہاتھ میں بھی ہے۔سو تم اپنی اس ذمہ داری کو ایسی عمدگی سے ادا کرو کہ خدا کے نزدیک صالحات، 150