عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 111

عائلی مسائل اور ان کا حل (خطبہ جمعہ 24 / جون 2005 ء بمقام انٹر نیشنل سنٹر۔ٹورانٹو کینیڈا مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 08 جولائی 2005ء) اسی حوالہ سے ایک اور جگہ فرماتے ہیں: لڑکوں کی ایک خاص تعداد ہے جو پاکستان، ہندوستان وغیرہ سے شادی ہو کر ان ملکوں میں آتے ہیں اور یہاں آکر جب کاغذات پکے ہو جاتے ہیں تو لڑکی سے نباہ نہ کرنے کے بہانے تلاش کرنے شروع کر دیتے ہیں، اس پر ظلم اور زیادتیاں شروع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء:20) کہ ان سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اگر تم انہیں ناپسند کرو تو عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔پس جب شادی ہو گئی تو اب شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کریں، نیک سلوک کریں، ایک دوسرے کو سمجھیں، اللہ کا تقویٰ اختیار کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اللہ کی بات مانتے ہوئے ایک دوسرے حسن سلوک کرو گے تو بظاہر ناپسندیدگی، پسند میں بدل سکتی ہے اور تم اس رشتے سے زیادہ بھلائی اور خیر پاسکتے ہو کیونکہ تمہیں غیب کا علم نہیں اللہ تعالیٰ غیب کا علم رکھتا ہے اور سب قدرتوں کا مالک ہے۔وہ تمہارے لئے اس میں بھلائی اور خیر پیدا کر دے گا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ 111