عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 109
حقوق دلوائے ہیں۔عائلی مسائل اور ان کا حل (جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 31 جولائی 2004 ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 24 اپریل 2015ء) اسی حوالہ سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ہر شادی شدہ مرد اپنے اہل و عیال کا نگران ہے، اس کا فرض ہے کہ ان کی ضروریات کا خیال رکھے ، مرد قوام بنایا گیا ہے، گھر کے اخراجات پورے کرنا، بچوں کی تعلیم کا خیال رکھنا، ان کی تمام تعلیمی ضروریات اور اخراجات پورے کرنا، یہ سب مرد کی ذمہ داری ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت میں بھی بعض مرد ایسے ہیں جو گھر کے اخراجات مہیا کرنے تو ایک طرف، الٹا بیویوں سے اپنے لئے مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے خرچ پورے کرو، حالانکہ بیوی کی کمائی پر ان کا کوئی حق نہیں ہے۔اگر بیوی بعض اخراجات پورے کر دیتی ہے تو یہ اس کا مردوں پر احسان ہے“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 5 / مارچ 2004ء بمقام بیت الفتوح، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 19 / مارچ 2004ء) عورت کے مال اور جائیداد پر نظر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بعض مردوں کے لالچ میں مبتلا ہونے کے بارہ میں اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فکر کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ” مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کینیڈا میں بڑی تیزی کے ساتھ شادیوں کے بعد میاں بیوی کے معاملات میں تلخیاں پیدا ہو رہی ہیں۔یا پھر 109