365 دن (حصہ سوم) — Page 71
درس القرآن 71 درس القرآن نمبر 213 رَبَّنَالَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران:9) یعنی اے ہمارے رب تو ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو سج نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت کے سامان عطا کر یقینا تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس دعا کا مفہوم اس رنگ میں بیان فرمایا ہے کہ :۔”اے ہمارے خدا ہمارے دل کو لغزش سے بچا اور بعد اس کے جو تو نے ہدایت دی ہمیں پھسلنے سے محفوظ رکھ اور اپنے پاس سے ہمیں رحمت عنایت کر کیونکہ ہر ایک رحمت کو تو ہی بخشتا ہے۔“ 66 (تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 127) حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔چونکہ محکمات اور متشابہات کی بحث میں عموماً کمزور ایمان والوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں اور عیسائیوں نے خصوصیت کے ساتھ متشابہات کو ہی ہاتھ میں لے کر لوگوں کو گمراہ کرنا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے عیسائیت کے مقابلہ کا ذکر کرتے ہی دعا سکھلا دی کہ اے ہمارے رب یہ فتنہ بڑا سخت ہو گا تو ایسا فضل فرما کہ ہم ان کے دجالی فتنہ سے ہمیشہ محفوظ رہیں۔ایسا نہ ہو کہ ہدایت کے بعد ہمارا قدم ڈگمگا جائے۔اور ہم ان کی مزورانہ چالوں میں آکر محمد رسول اللہ صلی ال لا لی اور اسلام کے بارہ میں کسی شک میں مبتلا ہو جائیں۔(ب) وَهَبْ لَنَا مِنْ تَدُنكَ رَحْمَةً اور ہمیں ایسی توفیق بخش کہ ہم ان کا پورے زور سے مقابلہ کریں اور ان کے حملوں کا دفاع کریں۔مگر دفاع اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب تیری رحمت ہمارے شامل حال ہو۔یعنی آسمانی تائیدات ہمارے ساتھ ہوں۔ورنہ تیری مدد کے بغیر ہماری کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔“ نوٹس غیر مطبوعہ حضرت مصلح موعوددؓ زیر آیت آل عمران آیت نمبر 9رجسٹر نمبر 9صفحہ 87)