365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 25 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 25

درس القرآن 25 درس القرآن نمبر 172 عائلی مسائل میں ایک اہم مسئلہ ان عورتوں کا ہے جن کے خاوند فوت ہو جائیں ان کے بارہ میں فرماتا ہے وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ نکاح کرنے سے رکی رہیں۔“ (البقرة:235) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور جو روئیں رہ جائیں تو وہ چار مہینے اور دس دن (شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 336) اس آیت کا ترجمہ اس طرح ہے کہ تم سے جو لوگ وفات دیئے جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار مہینے دس دن تک اپنے آپ کو روکے رکھیں پس جب وہ اپنی مقررہ مدت کو پہنچ جائیں تو پھر وہ عورتیں اپنے متعلق معروف کے مطابق جو بھی کریں اس بارہ میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔اس صورت میں ایک مسئلہ کھڑا ہوتا ہے جس کا جواب اس انگلی آیت میں دیا گیا ہے کہ ان چار مہینے دس دن میں بیوہ عورت کو یہ فکر ہو سکتی ہے کہ خاوند کی غیر موجودگی میں اس کے مالی مسائل کا کیا بنے گا۔اس بارہ میں فرمانا کہ بے شک ان چار مہینے دس دن میں یہ اجازت تو نہیں کہ وہ نکاح کرے مگر اس کے مستقبل کے بارہ میں اس کو اشارہ تسلی دلائی جاسکتی ہے، فرماتا ہے وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ کہ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم ان عورتوں سے نکاح کی تجویز کے متعلق کوئی اشارہ کر دیا اسے اپنے دلوں میں چھپائے رکھو۔اللہ جانتا ہے کہ ضرور تمہیں ان کا خیال آئے گا لیکن ان سے خفیہ وعدے نہ کرنا سوائے اس کے کہ تم کوئی اچھی بات کہو اور نکاح باندھنے کا عزم نہ کرو یہاں تک کہ مقررہ عدت اپنی معیاد کو پہنچ جائے اور جان لو کہ اللہ اس کا علم رکھتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے پس اس کی پکڑ سے بچو اور جان لو کہ اللہ بہت بخشنے والا اور بردبار ہے۔(البقرة:236)