365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 180 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 180

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 107 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔180 یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اُس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو، بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجالائے گی۔تم یقیناً سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یا یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرا محتاج نہیں۔ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقعہ دیتا ہے۔تھوڑے دن ہوئے کہ بمقام گورداسپور مجھ کو الہام ہوا تھا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اَنَا فَاتَّخِذَنِي وَكِيلاً یعنی میں ہی ہوں کہ ہر ایک کام میں کار ساز ہوں۔پس تو مجھ کو ہی وکیل یعنی کار ساز سمجھ لے اور دوسروں کا اپنے کاموں میں بھی دخل مت سمجھ۔جب یہ الہام مجھ کو ہوا تو میرے دل پر ایک لرزہ پڑا اور مجھے خیال آیا کہ میری جماعت ابھی اس لائق نہیں کہ خدا تعالیٰ ان کا نام بھی لے اور مجھے اس سے زیادہ کوئی حسرت نہیں کہ میں فوت ہو جاؤں اور جماعت کو ایسی نا تمام اور خام حالت میں چھوڑ جاؤں۔میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔جو شخص سچے دل سے خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے۔وہ اپنامال صرف اس مال کو نہیں سمجھتا کہ اس کے صندوق میں بند ہے بلکہ وہ خد اتعالیٰ کے تمام خزائن کو اپنے خزائن سمجھتا ہے اور امساک اس سے اس طرح دُور ہو جاتا ہے جیسا کہ روشنی سے تاریکی دور ہو جاتی ہے اور یقیناً سمجھو کہ صرف یہی گناہ نہیں کہ میں ایک کام کے لئے کہوں اور کوئی شخص میری جماعت میں سے اس کی طرف کچھ التفات نہ کرے بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی گناہ ہے کہ کوئی کسی قسم کی خدمت کر کے یہ خیال کرے کہ میں نے کچھ کیا ہے۔اگر تم کوئی نیکی کا کام بجالاؤ گے اور اس وقت کوئی خدمت کروگے تو اپنی ایمان داری پر مہر لگا دو