365 دن (حصہ سوم) — Page 156
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 90 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام بیان کرتے ہیں:۔156 " قرآن کریم کی آیات معقولی اور روحانی دونوں طور کی روشنی اپنے اندر رکھتی ہیں۔پھر بعد اس کے فرمایا کہ قرآن میں اس قدر عظمت حق بھری ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی آیتوں کے سُننے سے اُن کے دلوں پر قشعریرہ پڑ جاتا ہے اور پھر اُن کی جلدیں اور اُن کے دل یاد الہی کے لئے یہ نکلتے ہیں۔اور پھر فرمایا کہ یہ کتاب حق ہے اور نیز میزان حق یعنی یہ حق بھی ہے اور اس کے ذریعہ سے حق شناخت بھی ہو سکتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے پانی اُتارا۔پس اپنے اپنے قدر پر ہر یک وادی بہ نکلی یعنی جس قدر دنیا میں طبائع انسانی ہیں قرآن کریم انکے ہر ایک مرتبہ فہم اور عقل اور ادراک کی تربیت کرنیوالا ہے اور یہ امر مستلزم کمال تام ہے کیونکہ اس آیت میں اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم اس قدر وسیع دریائے معارف ہے کہ محبت الہی کے تمام پیاسے اور معارف حقہ کے تمام تشنہ لب اسی سے پانی پیتے ہیں اور پھر فرمایا کہ ہم نے قرآن کریم کو اسلئے اُتارا ہے کہ تاجو پہلی قوموں میں اختلاف ہو گئے ہیں اُن کا اظہار کیا جائے۔اور پھر فرمایا کہ یہ قرآن ظلمت سے نور کی طرف نکالتا ہے۔اور اُس میں تمام بیماریوں کی شفا ہے اور طرح طرح کی برکتیں یعنی معارف اور انسانوں کو فائدہ پہنچانے والے اُمور اس میں بھرے ہوئے ہیں اور اس لائق ہے کہ اس کو تدبر سے دیکھا جائے اور عظمند اس میں غور کریں اور سخت جھگڑالو اس سے ملزم ہوتے نہیں اور ہر ایک شے کی تفصیل اس میں موجود ہے اور یہ ضرورت حقہ کے وقت نازل کیا گیا ہے۔اور ضرورت حقہ کے ساتھ اُترا ہے اور یہ کتاب عزیز ہے باطل کو اس کے آگے پیچھے راہ نہیں اور یہ نور ہے جس کے ذریعہ سے ہدایت دی جاتی ہے اس میں ہر ایک شے کا بیان موجود ہے اور یہ رُوح ہے اور یہ کتاب عربی فصیح بلیغ میں ہے اور تمام صداقتیں غیر متبدل اس میں موجود ہیں ان کو کہدے کہ اگر جن وانس اس کی نظیر بنانا چاہیں یعنی وہ صفات کا ملہ جو اس کی بیان کی گئی ہیں اگر کوئی ان کی مثل بنی آدم اور جنات میں سے بنانا چاہیں تو یہ اُن کیلئے ممکن نہ ہو گا اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔“ تشعریده مشکل الفاظ اور ان کے معانی لرزه (کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 59،58) تشنه لب پیاسا فصیح و بلیغ دور رس معانی پر مشتمل، جامع اور معنی خیز غیر متبدل بدلی نہ جانے والی