365 دن (حصہ سوم) — Page 123
123 درس حدیث نمبر 103 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : اِنَّ اللهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلكِن يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ (بخاری کتاب الجنائز باب البكاء عند المريض1304) انسانی زندگی میں موت فوت کا سلسلہ لگا ہوا ہے پرانی حکایت ہے کہ حضرت بدھ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میرا بیٹا فوت ہو گیا ہے آپ اس کو دوبارہ زندہ کر دیں حضرت بدھ نے جواب دیا میں اس کو زندہ کر دوں گا مگر تم مجھے کچھ تل لا دو صرف ایک شرط ہے کہ وہ تیل ایسے گھر سے لا کر دو جس گھر میں کوئی فوت نہ ہو ا ہو۔وہ عورت سارا شہر پھر گئی، ہر گھر سے اس نے تل مانگے مگر ساتھ ہی پوچھتی تھی کہ یہ بتاؤ آپ کے گھر میں کبھی کوئی فوت نہیں ہوا لوگ اس کی بات پر ہنس پڑتے ، تعجب کا اظہار کرتے کہ کوئی گھرانہ ، کوئی کنبہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جس میں کبھی کوئی فوت نہ ہوا ہو ؟ حضرت بدھ جو سبق اس خاتون کو دینا چاہتے تھے وہ اس کو مل گیا اور وہ تھک ہار کر ، صبر کر کے بیٹھ گئی۔لوگ اپنے بزرگوں، اپنے عزیزوں کی وفات پر روتے دھوتے ہیں مگر آخر صبر کرنا پڑتا ہے۔کچھ عرصہ بعد غم کی وہ شدت نہیں رہتی جس گھر میں کوئی فوت ہوا تھا اس میں ہی کچھ عرصہ بعد کوئی شادی ہو رہی ہوتی ہے، کسی کی کامیابی پر خوشی منائی جارہی ہوتی ہے۔ہمارے نبی صلی اللی یم نے اس حدیث میں یہ فرمایا ہے کہ بے شک آنکھ آنسو بہاتی ہے ، دل غمگین ہوتا ہے اس پر اللہ کی ناراضگی نہیں ہوتی لیکن اگر کسی غم کے موقعہ پر زبان اللہ کا شکوہ شکایت کرتی ہے۔بے صبری کے کلمات بولتی ہے تو وہ انسان اللہ کی ناراضگی مول لیتا ہے لیکن اگر انسان خدا کی رضا پر راضی ہونے کا اظہار کرتا ہے تو وہ انسان اللہ کے رحم کا مستحق ہو جاتا ہے۔