365 دن (حصہ دوم) — Page 75
درس القرآن 75 درس القرآن نمبر 134 الظَّلِمِينَ وَقتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى ވ (البقرة:194) جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے سورۃ البقرۃ کے اس حصہ میں احکام شریعت اور ان کی حکمتیں بیان ہیں۔قتال کی اجازت کے ساتھ اب اس کی حکمت بتائی گئی ہے۔دنیا کی لڑائی دولت کے لئے ہوتی ہے ، علاقائی وسعت کے لئے ہوتی ہے، ظلم کے لئے ہوتی ہے یہ سب فتنے ہیں فرماتا ہے قَاتِلُوهُم ان سے لڑو مگر دین تو ہوتا ہی خدا کے لئے ہے جب تک وہ اپنی مرضی کے دین کو منوانے کے لئے جبر کریں ان سے لڑائی کر سکتے ہو اور صرف اس وقت لڑ سکتے ہو جب تک یہ فتنہ قائم ہے جب یہ فتنہ اٹھ جائے وَ يَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ دین کسی جبر اور دباؤ اور ظلم کے بجائے اللہ کے لئے اس کا ماننا یا نہ ماننا ہو تب لڑائی بند ہو جائے۔فإن انتهوا پس اگر وہ رک جائیں دین کے لئے جبر و استبداد کا فتنہ نہ ڈالیں فَلَا عُدْوَانَ تو کسی قسم کی زیادتی کی اجازت نہیں الا على الظلمین زیادتی کی سزا تو صرف ان کو دی جاسکتی ہے جو ظلم کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔بعض لوگ جن کو حق کے ساتھ دشمنی ہوتی ہے جب ایسی تعلیم سنتے ہیں تو اور کچھ نہیں تو یہی اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام میں اگر ہمدردی کی تعلیم ہوتی تو آنحضرت صلی للی کم لڑائیاں کیوں کرتے۔وہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ آنحضرت صلی الم نے جو جنگ کئے وہ تیرہ (13) برس تک خطر ناک دکھ اور تکلیف پر تکلیف اٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی صرف مدافعت کے طور پر۔تیرہ (13) برس تک ان کے ہاتھوں سے آپ تکالیف اٹھاتے رہے۔ان کے عزیز دوست اور یاروں کو سخت سخت عذاب دیا جاتا رہا اور جور و ظلم کا کوئی بھی ایسا پہلو نہ رہا جو کہ مخالفوں نے ان کے لئے نہ برتا ہو۔یہاں تک کہ کئی مسلمان مرد اور مسلمان عور تیں ان کے ہاتھ سے شہید بھی ہو گئے اور ان کے ہر وقت کے ایسے شدید ظلموں سے تنگ آکر بحکم الہی