365 دن (حصہ دوم) — Page 1
درس القرآن بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر رب اغفر وارحم وانت خير الراحمين رس القرآن نمبر 79 161199 وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبُحْنَةَ بَلْ لَهُ مَا فِي السَّمُوتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَنِتُونَ بَدِيعُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (البقرة: 118,117) گزشتہ کچھ آیات سے بنی اسرائیل کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہود کے ساتھ عیسائیوں کا ذکر بھی شروع ہے یہود کی غلط کاریوں کا تفصیلی ذکر پہلے ہو چکا ہے اور آئندہ بھی جاری ہے نصاریٰ کے ذکر کی وجہ سے ان کے عقیدہ کی بنیادی غلطی کا ذکر اور اس کی تردید اس آیت میں کی گئی ہے اور اس طرح ان کے اس دعویٰ کی تردید بھی کر دی ہے کہ جو شخص عیسائی نہ ہو وہ جنت میں نہیں جاسکتا، فرماتا ہے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک بیٹا بنالیا ہے سُبحنه مگر یہ تو عیسائی بھی مانتے ہیں اور مسلمان بھی مانتے ہیں کہ وہ ہر نقص سے ، ہر عیب سے ، ہر کمزوری سے پاک ہے۔مگر بیٹا ہونا تو جنسی خواہشات کا تقاضا کرتا ہے جو ایک عیب ہے۔بیٹا ہونا تو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ باپ نے ایک دن مرنا ہے اس لئے اس کے بعد اس کے قائم مقام کی ضرورت ہے مگر خدا تو نہیں مرتا، بیٹا ہو نا تو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ باپ کو اپنی زندگی میں بھی اپنے کاموں کے لئے مددگار کی ضرورت ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ کو تو کسی مدد گار کی ضرورت نہیں۔نہ صرف یہ کہ خدا میں یہ عیب، یہ کمزوریاں نہیں پائی جاتیں بک له مَا فِي السَّمواتِ وَالْأَرْضِ بلکہ جو کچھ آسمانوں میں ہے ، جو کچھ زمین میں ہے اس کے کنٹرول میں ہے، اس کی ملکیت ہے، پھر اس کو بیٹا بنانے کی ضرورت کیا ہے ؟ پھر اس پر یہ بات بھی صاف ہے کہ كُن له قنتُون کائنات کی ہر چیز اس کی فرمانبردار ہے ، اس کے بنائے ہوئے قانون کی پابند ہے اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتی، اس کے خلاف بغاوت نہیں کر سکتی، پھر اس کو بیٹے کی کیا ضرورت ہے؟