365 دن (حصہ دوم) — Page 187
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 59 و حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔187 اپنی نیک نیت میں فرق نہ لاؤ: “خد اتعالیٰ فرماتا ہے کہ زیادہ بزرگ تم میں سے وہ ہے جو تقویٰ میں زیادہ ہے۔جیسے قرآن شریف میں ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتقاكم (الحجرات : 14) اور متقیوں کے صفات میں سے ہے کہ وہ بالغیب ایمان لاتے ہیں۔نمازیں پڑھتے ہیں اور مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:4 ) یعنی علم ، مال اور دوسرے قومی ظاہری اور باطنی جو کچھ دیا ہے۔سب کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لیے خدا تعالیٰ نے بڑے بڑے وعدے انعام کے کئے ہیں۔انسان ایک کارِ خیر کے لیے جب نیت کرتا ہے تو اس کو چاہیے کہ پھر اس میں کسی قسم کا فرق نہ لاوے۔اگر کوئی دوسرا جو اس میں حصہ لینے والا تھا یا نہ تھا، مزاحم ہو اور بد دیانتی کرے تو بھی اول الذکر کو چاہیے کہ وہ کسی قسم کا تغیر اپنے ارادہ میں نہ کرے۔اس کو اس کی نیت کا اجر ملے گا اور دوسرا اپنی شرارت کی سزا پاوے گا۔دنیا میں لوگوں کو ایک یہ بھی بڑی غلطی لگی ہے کہ دوسرے سے مقابلہ کے وقت یا اس کی نیت میں فرق آتا دیکھ کر اپنی نیت کو جو خیر پر مبنی ہوتی ہے ، بدل دیا جاتا ہے۔اس طرح سے بجائے ثواب کے عذاب حاصل ہوتا ہے۔یاد رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے نقصان روا نہیں رکھتا وہ عند اللہ کسی اجر کا بھی مستحق نہیں۔خدا کے لیے تو جان تک دریغ نہ کرنی چاہیے۔پھر زمین وغیرہ کیا شئے ہے۔جس قدر کوئی دکھ اٹھانے کے لیے تیار ہو گا اتنا ہی اُسے ثواب ملے گا۔اگر کوئی شخص یہ اصول اختیار نہیں کرتا تو اس نے ابھی تک ہمارے سلسلہ کا مطلب اور مقصود ہی نہیں جانا۔جو لوگ اس جماعت میں داخل ہیں۔اگر وہ عام لوگوں کے سے اخلاق، مروت اور ہمدردی برتتے ہیں تو اُن میں اور دوسرے لوگوں سے کیا فرق ہوا؟ شریر کی شرارت کو شریر کے حوالہ کرو۔اور اپنے نیک جو ہر دکھاؤ۔تب تمیز ہو گی۔دنیاوی تنازعات کے وقت مالی نقصان برداشت کرنے اور