365 دن (حصہ دوم) — Page 173
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 51 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام بیان کرتے ہیں:۔173 تمام سعادت مندیوں کا مدار خداشناسی پر ہے اور نفسانی جذبات اور شیطانی محرکات سے روکنے والی صرف ایک ہی چیز ہے جو خدا کی معرفت کا ملہ کہلاتی ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ خدا ہے۔وہ بڑا قادر ہے وہ ذوالعذاب الشدید ہے یہی ایک نسخہ ہے جو انسان کی متمر دانہ زندگی پر ایک بھسم کر نیوالی بجلی گراتا ہے پس جب تک انسان آمنتُ بِاللہ کی حدود سے نکل کر عرفت اللہ کی منزل پر قدم نہیں رکھتا اس کا گناہوں سے بچنا محال ہے اور یہ بات کہ ہم خدا کی معرفت اور اس کی صفات پر یقین لانے سے گناہوں سے کیونکر بچ جائیں گے ایک ایسی صداقت ہے جس کو ہم جھٹلا نہیں سکتے۔ہمارا روزانہ تجربہ اس امر کی دلیل ہے کہ جس سے انسان ڈرتا ہے اس کے نزدیک نہیں جاتا مثلاً جب کہ یہ علم ہو کہ سانپ ڈس لیتا ہے اور اس کا ڈسا ہو اہلاک ہو جاتا ہے تو کون دانش مند ہے جو اس کے منہ میں اپنا ہاتھ دینا تو در کنار کبھی ایسے سوٹے کے نزدیک بھی جانا پسند کرے جس سے کوئی زہریلا سانپ مارا گیا ہو۔اسے خیال ہو تا ہے کہ کہیں اس کے زہر کا اثر اس میں باقی نہ ہو اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ فلاں جنگل میں شیر ہے تو ممکن نہیں کہ وہ اس میں سفر کر سکے یا کم از کم تنہا جاسکے بچوں تک میں یہ مادہ اور شعور موجود ہے کہ جس چیز کے خطرناک ہونے کا ان کو یقین دلایا گیا ہے وہ اس سے ڈرتے ہیں۔پس جب تک انسان میں خدا کی معرفت اور گناہوں کے زہر کا یقین پیدا نہ ہو ، کوئی اور طریق خواہ کسی کی خود کشی ہو یا قربانی کا خون نجات نہیں دے سکتا اور گناہ کی زندگی پر موت وارد نہیں کر سکتا یقیناً یا درکھو کہ گناہوں کا سیلاب اور نفسانی جذبات کا دریا بجز اس کے رک ہی نہیں سکتا کہ ایک چمکتا ہوا یقین اس کو حاصل ہو کہ خدا ہے اور اس کی تلوار ہے جو ہر ایک نافرمان پر بجلی کی طرح گرتی ہے۔جب تک یہ پیدا نہ ہو گناہ سے بچ نہیں سکتا اگر کوئی کہے کہ ہم خدا پر ایمان لاتے ہیں اور اس بات پر بھی ایمان لاتے کہ وہ نافرمانوں کو سزا دیتا ہے مگر گناہ ہم سے دور نہیں ہوتے۔میں جواب میں یہی کہوں گا کہ یہ جھوٹ ہے اور نفس کا مغالطہ ہے بچے ایمان اور بچے یقین اور گناہ میں باہم عداوت ہے جہاں سچی معرفت