365 دن (حصہ دوم) — Page 101
درس القرآن 101 درس القرآن نمبر 150 هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَاءِ وَالْمَلَبِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ (البقرة:211) جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے عبادات کے ارکان اور ان کی حکمت کی تفاصیل بیان کرنے کے بعد اور بندوں کے حقوق کی تفاصیل بیان کرنے سے پہلے نہایت پر زور الفاظ میں ذکر اللہ اور تعلق باللہ کا مضمون تھا اور جو لوگ اس سے غفلت کرتے ہیں ان کو آج کی آیت میں پوچھتا ہے کہ آخر تم کن دلائل اور نشانات کے منتظر ہو۔زبر دست عقلی دلائل اور نشانات کی موجودگی میں کیا تم اس بات کے منتظر ہو کہ اَنْ يَأْتِيَهُمُ اللهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَبِكَةُ کہ اللہ اور فرشتے بادلوں کے سائبانوں میں ان کے پاس آئیں وَقُضِيَ الْأَمْرُ اور سچ اور جھوٹ کا فتح و شکست کا جھٹ پٹ فیصلہ ہو جائے۔فرماتا ہے وَإِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ معاملات تو سارے خدا کے ہاتھ ہیں۔تمام امور اللہ کی طرف پھیرے جاتے جس طرح کے نشانات کی انتظار میں وہ بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی آسکتے ہیں اور بدر وغیرہ کے مواقع پر دیکھنے والوں نے دیکھے اور خدائی تجلیات کو انسانی شکل میں ظاہر ہوتے دیکھا۔حضرت مصلح موعود اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔“اس میں بتایا کہ یہ کفار جو مسلمانوں کی مخالفت کر رہے ہیں اور منافق جو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں اور اسلام کی تباہی کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔یہ لوگ بظاہر تو اس بات کے منتظر ہیں کہ کب وہ دن آئے کہ اسلام دنیا سے مٹ جائے اور خدائے واحد کی حکومت پر شیطانی طاقتیں غلبہ حاصل کر لیں لیکن در حقیقت اپنے عمل سے وہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس بادلوں کے سایوں میں آئے۔یعنی اپنی مخفی تدبیر سے ان کی ہلاکت اور بربادی کے سامان پیدا کر دے۔وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ آسمان سے اس کے فرشتے نازل ہوں جو انہیں کچل کر رکھ دیں۔وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ کوئی ایسا نشان ظاہر ہو جس کے نتیجہ میں یہ روز روز کے جھگڑے مٹ جائیں اور خدا تعالیٰ کا آخری فیصلہ ایک چمکتے